امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طاقتور اور پرجوش خطاب میں اعلان کیا کہ امریکا کی فوج نے ایران کے خلاف شاندار اور بے مثال کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کی بدولت مشرق وسطیٰ اب ایرانی دہشت گردی، جارحیت اور نیوکلیئر بلیک میلنگ سے نجات پا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی رجیم کی نیوکلیئر بلیک میلنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے، اور اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اسے مشرق وسطیٰ میں استعمال کر چکا ہوتا۔ ٹرمپ نے زور دیا کہ امریکا اس خطرناک رجیم کے وجودی خطرے کو ختم کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ امریکا کے صدر نہ ہوتے تو آج امریکا کی حالت مختلف ہوتی۔ انہوں نے فخر سے بتایا کہ ان کی حکومت نے جرائم پیشہ افراد اور خطرناک عناصر کو امریکا سے نکالنے کا سخت اور موثر اقدام کیا ہے۔ ماضی میں بدترین لوگوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دی جاتی تھی، جبکہ موجودہ انتظامیہ ایسے مجرموں کے خلاف ناقابلِ مصالحت موقف اپنائے ہوئے ہے۔

ٹرمپ نے تاکید کی کہ ایران کو آ بنائے ہرمز کھولنا ہو گا، کیونکہ یہ عالمی تجارت اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے اپنے اتحادیوں کی حفاظت کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے ہیں۔ اگر ایران معاہدہ نہ توڑتا تو شاید آج اس کے پاس ایٹم بم ہوتا، کیونکہ گزشتہ 47 سال سے یہ رجیم پورے مشرق وسطیٰ کو ہراساں کر رہا تھا۔ پاک بھارت تنازع کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ جنگ کے دوران نو طیارے گرائے گئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے کہا تھا کہ ٹرمپ کی مداخلت سے 30 سے 50 ملین لوگوں کی جانیں بچ گئیں۔







Discussion about this post