اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران میں جاری شدید فوجی کشیدگی پر ایک اہم اور بند کمرہ اجلاس طلب کر لیا ہے، جو عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تناؤ کو اجاگر کرتا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اجلاس نیویارک کے وقت کے مطابق جمعے کی صبح دس بجے ہو گا۔ اجلاس بلانے کی درخواست روس نے کی تھی، جو ایران میں شہری تنصیبات اور عام شہریوں پر ہونے والے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔ ادھر ایران میں فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی شہر قم میں امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں تین گھروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چھ افراد شہید ہو گئے۔ یہ حملے ایرانی شہری علاقوں میں جاری ہیں، جو خطے میں امن کی امیدوں کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔اس سے قبل تہران میں بھی شدید فضائی بمباری کی گئی تھی، جس کی آوازیں پاکستان کے سفارتخانے اور سفیر مدثر ٹیپو کی رہائشگاہ کے بالکل قریب سنائی دیں۔ تاہم خوش قسمتی سے پاکستانی سفارتی عملہ مکمل طور پر محفوظ رہا اور کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔

یہ پیش رفت ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری ڈرامائی تنازع کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں لے آئی ہے۔ سلامتی کونسل کا یہ بند کمرہ اجلاس عالمی برادری کی طرف سے ایک اہم قدم ہے، جو بتاتا ہے کہ دنیا اب اس بڑھتے ہوئے بحران کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ تہران اور قم میں شہری علاقوں پر ہونے والے حملے نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہے ہیں بلکہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ بھی پیدا کر رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سلامتی کونسل کا یہ اجلاس کون سے عملی اقدامات تجویز کرتا ہے اور کیا یہ اجلاس محض بات چیت تک محدود رہے گا یا اس سے کوئی ٹھوس نتیجہ نکل سکتا ہے۔








Discussion about this post