امریکی سفارتخانہ ریاض نے ایک انتہائی سنگین اور خوفناک صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سعودی عرب میں موجود تمام امریکی مشنز آج مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ معمول کی سرگرمیاں اور ہنگامی امریکی شہری سروسز کی اپائنٹمنٹس بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔ جدہ، ریاض اور ظہران کے لیے جاری "شیلٹر ان پلیس” کی ہدایت اب بھی پوری شدت سے نافذ العمل ہے۔امریکی شہریوں کو فوری طور پر گھروں یا محفوظ ترین مقامات تک محدود رہنے کی سخت ہدایت دی گئی ہے۔ سفارتخانے پر حملے کی وجہ سے آئندہ اطلاع تک وہاں جانے سے مکمل گریز کیا جائے، اور خطے کی فوجی تنصیبات کے غیر ضروری سفر پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ امریکی حکام علاقائی صورتحال کی گھڑی گھڑی نگرانی کر رہے ہیں، جہاں خطرہ کسی بھی لمحے بڑھ سکتا ہے۔ یہ بحران صرف سعودی عرب تک محدود نہیں رہا, کویت اور کینیڈا میں بھی امریکی سفارتخانوں کو اگلے نوٹس تک بند کر دیا گیا ہے۔ امریکہ نے اپنے شہریوں کو مشرق وسطیٰ کے 14 ممالک سے فوری انخلا کی واضح اور بے لچک ہدایت جاری کر دی ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل (بشمول مغربی کنارہ اور غزہ)، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن میں موجود امریکی شہریوں کو حفاظتی انتہائی خطرات کی وجہ سے اپنے طور پر فوری طور پر ان ممالک سے نکل جانے کا حکم دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ خطے کی سیکیورٹی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اور کسی بھی وقت میزائل یا ڈرون حملوں کا سنگین خطرہ منڈلا رہا ہے۔ شہریوں کو فوجی تنصیبات اور حساس مقامات سے دور رہنے کی بار بار تاکید کی جا رہی ہے۔دوسری جانب کینیڈین حکومت نے بھی اپنے شہریوں کو دبئی سے فوری انخلا کی ہدایت جاری کی ہے۔ کینیڈین حکام نے واضح کیا کہ خصوصی پروازوں کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ زمینی راستوں سے سعودی عرب یا سلطنت عمان پہنچنے کی فوری کوشش کی جائے







Discussion about this post