ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کا آسمان شعلوں اور دھماکوں سے بھر گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کر دیا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ یہ مشترکہ امریکہ-اسرائیل کارروائی ہے جو تہران سمیت پورے ایران میں گونج رہی ہے۔
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) February 28, 2026
فضا اور سمندر سے داغے گئے میزائلوں نے دارالحکومت تہران کو ہلا کر رکھ دیا، جہاں صدارتی محل اور سپریم لیڈر آیت علی خامنہ ای کی رہائش گاہ کے قریب سات طاقتور دھماکے ہوئے۔ سیاہ دھوئیں کے بادل آسمان کو ڈھانپ رہے ہیں، اور شہر کی گلیاں افراتفری کی لپیٹ میں ہیں۔ صدر ٹرمپ کا واضح پیغام ہے: ہمارا مقصد امریکی عوام کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
ایرانی رجیم کی جانب سے فوری خطرات کو جڑ سے ختم کیا جا رہا ہے۔ ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔ وہ اپنا ایٹمی پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اور لانگ رینج میزائل بنا رہے ہیں جو امریکہ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ یہ حملے صرف عسکری اہداف پر مرکوز ہیں۔ امریکی بیسز کے تحفظ کے لیے بحری بیڑے پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے جا چکے تھے۔امریکی صدر نے کہا کہ یقینی بنائیں گے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے، امریکا نے خطے میں امریکی اہلکاروں کے لیے خطرے کو کم کرنے کے لیے ہر ممکنہ قدم اٹھایا ہے، امریکا کا جانی نقصان ہو سکتا ہے۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب گارڈز ہتھیار ڈال دیں، آپ سے مکمل استثنیٰ کے ساتھ اچھا سلوک ہو گا، یا آپ کو یقینی موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ آپریشن مہینوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، اور اطلاعات ہیں کہ یہ کئی دن جاری رہے گا۔ اسرائیل نے اسے پیشگی حملہ قرار دیا ہے تاکہ ایران کے خطرات کو روکا جا سکے۔ تہران میں دھماکوں کی بازگشت ابھی جاری ہے، جبکہ ایران کی فضائی حدود بند ہیں اور پورا خطہ اعلیٰ الرٹ پر ہے۔







Discussion about this post