بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے ایک بار پھر اپنے بھائی کی صحت، قانونی مقدمات اور پارٹی کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے دل کھول کر بات کی جس میں انہوں نے پارٹی کے اندرونی معاملات، خاموشی اور بعض رہنماؤں کی بے عملی پر سنگین الزامات لگائے۔ علیمہ خان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر عوام کو بھی مکمل طور پر معلوم ہے اور ہمیں بھی پتہ ہے کہ پارٹی میں غدار کون ہیں۔ ہمارے پاس تمام معلومات موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اب ہم اپنے بھائی کے لیے کھل کر بولیں گے، محسن نقوی جو بھی کریں، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پارٹی رہنما جو مرضی کہیں، ہم اپنے بھائی کی آواز بنیں گے۔ انہوں نے پارٹی کی قیادت پر شدید تنقید کی کہ ہمیں پارٹی میں کیا ہو رہا ہے، اس کا علم تک نہیں ہوتا اور قیادت مکمل خاموش ہے۔ پارٹی کے وکلاء اور ارکان اسمبلی خود کہتے ہیں کہ ووٹ تو بانی کا ہے۔ بانی نے ہمیشہ یہ کہا تھا کہ یہ ایک نظریاتی جماعت ہے، اس لیے محسن نقوی کے خلاف بیان دینے سے پارٹی کا تقسیم ہونا سمجھ سے باہر ہے۔ چند افراد کے بیان سے پارٹی کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ فرد جرم کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ نہ میرا دستخط ہے اور نہ انگوٹھا، یہ بات بالکل غلط ہے۔ بانی نے وکلاء کو بار بار کہا کہ کیسز لگائیں، مگر چیئرمین، وکلاء اور ارکان اسمبلی کیسز تک نہیں لگوا سکے۔ بیرسٹر گوہر پارٹی چیئرمین بن گئے، لیکن سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیسز نہیں لگوا سکے۔ علیمہ خان نے بیرسٹر گوہر، لطیف کھوسہ اور بیرسٹر علی ظفر سے براہ راست سوال کیا کہ وہ کہاں غائب ہیں اور کیسز کیوں نہیں لگوا رہے؟ محسن نقوی کے بیان کا جواب نہ دینے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ہمیں قصوروار ٹھہرا رہے ہیں، جبکہ سرکاری ڈاکٹرز پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ڈاکٹرز موجود ہوں۔ پارٹی کو اب اس معاملے میں سنجیدگی سے قدم اٹھانا چاہیے۔ اس دن محسن نقوی سے پتہ چلا کہ بیرسٹر گوہر جیل جا رہے ہیں.کیا ہمیں اپنے اہل خانہ کی معلومات محسن نقوی سے ملیں گی یا پارٹی سے؟ مشاورتی کمیٹی کے بارے میں انہوں نے سخت موقف اپنایا کہ میری رائے اور مرضی کے بغیر کوئی کمیٹی منظور نہیں ہو سکتی۔ بانی کی صحت سے متعلق کسی بھی فیصلے یا کارروائی کے لیے میری مشاورت لازمی ہے۔ پارٹی کے رہنما اکیلے فیصلے کر رہے ہیں اور اہل خانہ کو کوئی اطلاع نہیں دی جا رہی۔ بیرسٹر گوہر پہلے ملاقات کرتے تھے اور بعد میں بتاتے تھے، مگر حامد خان سینیٹر بننے کے بعد نظر ہی نہیں آئے۔







Discussion about this post