وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی نے ضلع کُرم کے آپریشن سے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی رقم میں نمایاں اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اب متاثرین کو دی جانے والی مالی مدد ایک لاکھ 10 ہزار کے بجائے 2 لاکھ 30 ہزار روپے ہوگی، جس کا مقصد متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔ وسطی کُرم سے بے گھر ہونے والے افراد کے کیمپ کا دورہ کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت متاثرین کی تکالیف کو سنجیدگی سے سمجھتی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ تمام متاثرین باعزت اور محفوظ طریقے سے جلد اپنے علاقوں کو واپس لوٹ سکیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ کیمپوں میں مقیم افراد کو بنیادی سہولتوں کے ساتھ مکمل سرکاری معاونت فراہم کی جائے گی۔ ان کے مطابق وسطی کُرم کے متاثرین کو وادی تیراہ کے متاثرین کی طرز پر جامع ریلیف پیکیج دیا جائے گا۔وزیرِ اعلیٰ نے اعلان کیا کہ ضلع خیبر کی طرح کُرم میں بھی جلد ایک بڑا جرگہ منعقد کیا جائے گا تاکہ دیرپا امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ جو خاندان میزبان گھروں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، وہ بھی امدادی پیکیج سے محروم نہیں رہیں گے۔ اپنے خطاب میں سہیل آفریدی نے زور دیا کہ ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم مہذب اقوام کی طرح باہمی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو پسِ پشت ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ امن، اتحاد اور باہمی احترام ہی خیبر پختون خوا کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔







Discussion about this post