لاہور میں بسنت کی رونقیں عروج پر پہنچ گئی ہیں اور گڈے گڈیاں، پتنگیں اور ڈور کی خرید و فروخت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن نے پہلے دو روز کا ڈیٹا جاری کیا ہے، جس کے مطابق پتنگوں، گڈے، گڈیوں اور پنوکی کی مجموعی خرید و فروخت 34 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، پہلے روز 16 کروڑ اور دوسرے روز 18 کروڑ روپے کی خریداری ہوئی۔

ایسوسی ایشن کے مطابق دوسرے روز لاہور میں چھ لاکھ سے زائد گڈے، گڈیاں اور پتنگیں فروخت ہوئیں، جبکہ پنے بھی 15 ہزار سے زائد لوگوں تک پہنچے۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے بتایا کہ بسنت کے موقع پر حکومتِ پنجاب نے شہریوں کے لیے خصوصی ماحولیاتی ریلیف فراہم کیا ہے۔ لاہور سے جاری کیے گئے بیان میں انہوں نے کہا کہ شہر میں ہوا کی رفتار سست ہے اور ایئر کوالٹی انڈیکس 192 ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم جدید ڈیٹا، سائنسی ماڈلز اور ٹیکنالوجی کی مدد سے اسموگ کنٹرول میں پیش رفت ہوئی ہے۔

مریم اورنگزیب نے مزید بتایا کہ بسنت کے تین دن، یعنی 6 سے 8 فروری تک، لاہور کے شہریوں کے لیے بس، میٹرو بس اور اورنج لائن میٹرو ٹرین بلا معاوضہ دستیاب ہوں گی، تاکہ شہری ذاتی گاڑیوں کے کم استعمال کی طرف راغب ہوں اور اجتماعی سفر کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے اور فضائی آلودگی گھٹانے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، آلودگی کے ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹمز فعال ہیں، جبکہ ڈرون سرویلنس کے ذریعے فیکٹریوں، بھٹوں اور گاڑیوں کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے بسنت سے متعلق کوئی ایونٹ منسوخ نہیں کیا اور شہری بھرپور طور پر روایتی تہوار کی خوشیوں میں حصہ لے سکتے ہیں، جیسا کہ عظمیٰ بخاری نے بھی تصدیق کی۔







Discussion about this post