کراچی میں نادرا کی جانب سے ایک شہری کی زندہ بیوی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے واقعے نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی توجہ فوراً اپنی طرف مبذول کرا لی۔ محسن نقوی نے 24 گھنٹے اوپن نادرا سینٹر ڈیفنس کا اچانک دورہ کیا اور وہاں پہنچ کر شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات بنوانے آئے شہریوں سے براہِ راست ملاقات کی۔ شہریوں نے باری کے دیر سے آنے اور کئی گھنٹے انتظار کرنے کی شکایات کیں، جس پر وزیرِ داخلہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے مسائل کے حل کے احکامات جاری کیے۔

ذرائع کے مطابق ایک شہری کی شکایت پر سامنے آیا کہ نادرا نے ان کی زندہ بیوی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا تھا، جس پر وزیرِ داخلہ نے موقع پر حکام کو فوری درستگی کی ہدایت دی۔ اسی دوران ایک خاتون نے اپنے شناختی کارڈ پر نام کی غلطی کی شکایت کی، جس پر محسن نقوی نے نادرا کے سینٹر انچارج کو بغیر کسی اضافی فیس کے نام درست کرنے کی ہدایت دی۔ وزیرِ داخلہ نے مختلف کاؤنٹرز کا معائنہ کیا، عملے سے ملاقات کی اور کہا کہ شہریوں کا کام مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے، تاکہ انہیں بار بار دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہ پڑے اور ایک ہی وزٹ میں سارا عمل مکمل ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ نادرا کے نظام میں بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں اور مستقبل میں تاخیر کے مسائل مستقل بنیادوں پر ختم کیے جائیں گے، تاکہ شہریوں کو سہولت اور شفافیت کے ساتھ خدمات فراہم کی جا سکیں۔







Discussion about this post