امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو واضح پیغام دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ وہ سمندری حدود میں ایسے کسی بھی طرزِ عمل سے اجتناب کرے جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے۔سینٹکام کے مطابق پاسدارانِ انقلاب آئندہ دو روز تک ایک نہایت حساس سمندری گزرگاہ میں جنگی مشقیں کرنے جا رہی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ یہ فوجی مشقیں اس انداز میں انجام دی جانی چاہئیں کہ بین الاقوامی بحری آمدورفت کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہ ہو، کیونکہ سمندر میں ذرا سی لاپرواہی بھی بڑے حادثے کو جنم دے سکتی ہے۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک انتہائی اہم بحری راہداری ہے، جہاں سے روزانہ لگ بھگ سو تجارتی جہاز گزرتے ہیں، اور تجارتی جہازوں کے قریب غیر پیشہ ورانہ حرکات تصادم کے خدشات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اہلکاروں، بحری جہازوں اور فضائی اثاثوں کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، اور پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کسی بھی غیر محفوظ یا اشتعال انگیز اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سینٹکام نے مزید کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے زیادہ تربیت یافتہ اور مؤثر عسکری قوت ہے، جو پیشہ ورانہ اقدار اور عالمی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہے گی، تاکہ خطے میں سلامتی اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔







Discussion about this post