بھارت کی ریاست مہاراشٹرا ایک افسوسناک فضائی سانحے کی لپیٹ میں آ گئی، جہاں ایک طیارہ ہنگامی لینڈنگ کے دوران تباہ ہو گیا۔ حادثہ مہاراشٹرا کے علاقے بارہ متی میں پیش آیا، جس کے نتیجے میں صوبے کے نائب وزیرِ اعلیٰ اجیت پاوار سمیت پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق طیارے میں اجیت پاوار کے ساتھ ان کے دو قریبی ساتھی اور عملے کے دو ارکان موجود تھے۔ حادثہ اس قدر شدید تھا کہ طیارے میں سوار تمام افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے اور کسی کے بچنے کی اطلاع سامنے نہیں آ سکی۔ ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں، تاہم تباہی کے مناظر نے ہر آنکھ کو نم کر دیا۔ حکام کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ ملک بھر میں اس سانحے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ بھارت میں گزشتہ برس پیش آنے والے ایک اور دل دہلا دینے والے فضائی حادثے کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔ جون میں احمد آباد کے قریب ایک مسافر طیارہ گر کر مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا، جس میں 241 افراد جان سے گئے تھے، جب کہ ایک مسافر ناقابلِ یقین طور پر زندہ بچ نکلا تھا۔ اس حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ سرکاری ایئرلائن کا تھا جو لندن روانہ ہو رہا تھا۔ طیارے میں 230 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق مسافروں میں 169 بھارتی شہری، 53 برطانوی، ایک کینیڈین اور سات پرتگالی باشندے شامل تھے، جب کہ طیارے میں 11 معصوم بچے بھی موجود تھے۔
This is Horrible
Deputy CM Ajit Panwar’s plan crashes.pic.twitter.com/E0cWXi2cdr
— RaGa For India (@RaGa4India) January 28, 2026
بھارت کے یہ مسلسل فضائی سانحات نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہے ہیں بلکہ بھارتی فضائی سفر کے حفاظتی انتظامات پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں، جس نے بھارتی عوام کو گہرے اضطراب اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔







Discussion about this post