پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے کہا ہے کہ حادثے کے وقت سب سے اہم کام ریسکیو عملے کی بروقت پہنچ اور راستے کھولنا ہوتا ہے، نہ کہ وزراء یا وزیراعلیٰ کا فوراً موقع پر ہونا۔ قومی اسمبلی میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے گل پلازا کے سانحے کو ایک دل دہلا دینے والی حقیقت قرار دیا اور اس پر پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کیا۔ شہلا رضا نے بتایا کہ ٹریفک کی صورتحال نے ریسکیو میں شدید رکاوٹ پیدا کی تھی، کیونکہ گل پلازا کے 26 میں سے 24 راستے مکمل طور پر بند تھے۔ انہوں نے سانحے کے پس منظر کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ پلازہ 1980 میں تعمیر ہوا، جس کی بنیاد میں 180 دکانیں تھیں، گراؤنڈ فلور پر 405 اور پہلے فلور پر 175 دکانیں موجود تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 1998 میں مزید دکانیں شامل کی گئیں اور بعد میں پارکنگ اور کوریڈور میں بھی دکانیں تعمیر کی گئیں، جس سے عمارت کی حفاظت اور رسائی پر شدید اثر پڑا۔ شہلا رضا نے زور دیا کہ گل پلازا کا سانحہ صرف کریمنل ایکٹ سے نہیں ناپا جا سکتا، جب دو سے ڈھائی سو جانیں ایک لمحے میں ضائع ہو جائیں۔
انہوں نے بین الاقوامی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ میں آگ لگنے پر 40 افراد جاں بحق ہوئے، اور جب آگ لگتی ہے تو کیلیفورنیا کے جنگلات سے بھی گھروں تک تباہی پہنچتی ہے۔ لاہور کے حفیظ سینٹر میں بھی سال میں تین مرتبہ آگ لگی، لیکن اس پر کبھی سیاست نہیں کی گئی۔ شہلا رضا نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ایک واقعے کو بنیاد بنا کر صوبوں کی 18ویں ترمیم اور بنیادی تعلیم تک کے مسائل پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔ شہلا رضا کے الفاظ میں یہ سانحہ صرف آگ کا معاملہ نہیں، بلکہ انسانی زندگیوں کی قدر اور انتظامی استعداد کا امتحان ہے، جس پر غور اور ذمہ داری کی ضرورت ہے۔







Discussion about this post