ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی شب بھڑکنے والی ہولناک آگ پر طویل جدوجہد کے بعد قابو تو پا لیا گیا، مگر اس سانحے نے شہر کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ آگ کی شدت کے باعث عمارت کا تقریباً چالیس فیصد حصہ زمین بوس ہو چکا ہے، جبکہ دم گھٹنے اور جھلسنے کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 26 ہو گئی ہے۔ ملبہ ہٹانے اور لاشیں نکالنے کا عمل تاحال جاری ہے، جبکہ لاپتا افراد کی فہرست خوفناک حد تک طویل ہو چکی ہے۔ ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں لاپتا افراد کی تعداد 83 بتائی گئی، تاہم تصدیق کے بعد معلوم ہوا کہ بعض نام دو مرتبہ درج ہو گئے تھے، جس کے بعد 75 افراد کے لاپتا ہونے کی تصدیق کی گئی۔ ان میں سے 39 افراد کی آخری لوکیشن گل پلازہ کے اندر ٹریس ہوئی ہے، جس نے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ڈی سی کا کہنا ہے کہ عمارت کا بڑا حصہ گر چکا ہے اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ماہرین نے معائنے کے بعد خبردار کیا ہے کہ باقی ماندہ حصے بھی انتہائی کمزور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے تاجروں اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریسکیو آپریشن میں تعاون کریں اور ریڈ زون سے دور رہیں تاکہ مزید کسی حادثے سے بچا جا سکے۔ جاوید نبی کھوسو کے مطابق آج عمارت کے اندر باقاعدہ سرچ آپریشن شروع کیا جائے گا۔ ایس بی سی اے کی ڈیمولیشن ٹیم مسلسل ریسکیو حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور ہر مرحلے پر یہ طے کیا جا رہا ہے کہ کس طرح محفوظ انداز میں آگے بڑھا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ صبح تیسری اور چوتھی منزل کا تفصیلی سروے کیا گیا، تاہم وہاں کوئی لاش نہیں ملی۔ البتہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمارت کے بائیں حصے میں زیادہ لاشیں موجود ہو سکتی ہیں، جہاں راستہ بنا کر ریسکیو ٹیمیں بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دعا ہے کہ ہمیں اندر جانے کا محفوظ راستہ مل جائے۔ ڈی سی کے مطابق چھت پر کھڑی تمام گاڑیاں اتار کر ان کے مالکان کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ باقی موٹر سائیکلیں بھی جلد نکال لی جائیں گی۔ جاوید نبی کھوسو نے انکشاف کیا کہ آگ لگنے کے محض پندرہ سے بیس منٹ کے اندر تین مختلف مقامات سے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی، مگر شعلوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ کوئی قریب نہ جا سکا۔ ایم اے جناح روڈ کی جانب سے ریسکیو اہلکاروں نے جان پر کھیل کر اندر جانے کی کوشش کی اور کئی افراد کو بحفاظت نکالا، تاہم اس دوران متعدد ریسکیو اہلکار خود بھی زخمی ہو گئے۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں جہاں سے داخلہ ممکن تھا، وہاں سے بھرپور کوشش کی گئی اور جہاں سے ریسکیو ممکن ہوا، وہاں پھنسے ہوئے افراد کو نکال لیا گیا۔ آگ کی تیزی اور بے پناہ شدت ہی اس سانحے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنی، جس کے باعث ریسکیو اہلکار گل پلازہ میں مکمل طور پر داخل نہیں ہو پا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 32 مرتبہ عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی جا چکی ہے۔ڈی سی کے مطابق چار اہم پوائنٹس کی نشاندہی کر کے وہاں سوراخ بنائے گئے، ریسکیو اہلکار اندر بھیجے گئے اور کچھ حد تک پیش رفت بھی ہوئی، مگر شدید حرارت کے باعث ٹیمیں زیادہ اندر تک نہیں جا سکیں۔ چالیس گھنٹوں کے طویل انتظار کے بعد گزشتہ روز بالآخر ریسکیو اہلکار گل پلازہ کی عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اور لاپتا افراد کی تلاش کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ پہلی منزل پر لاشوں کی تلاش مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ دوسری منزل پر زندہ یا مردہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ اسی دوران دوسری منزل پر سرچ آپریشن کے دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، جس پر فائر بریگیڈ کی گاڑیوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پانی برسانا شروع کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں آگ پر ایک بار پھر قابو پا لیا گیا، مگر خطرات بدستور موجود ہیں۔ عمارت کے اندر اندھیرا چھائے ہونے کے باعث ریسکیو اہلکار ٹارچوں کی روشنی میں متاثرہ شہریوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ ریسکیو ٹیموں کو اندر انسانی اعضا مل رہے ہیں، جبکہ لاشیں نکالنے کا المناک سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے۔ گل پلازہ کا یہ سانحہ شہر کی تاریخ کے دل دہلا دینے والے واقعات میں ایک اور دردناک باب کا اضافہ بن چکا ہے







Discussion about this post