قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک اہم پارلیمانی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسپیکر سردار ایاز صادق نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ یہ اعلان ایوان کے آغاز پر ہی کیا گیا، جس سے اجلاس کی کارروائی خاصی توجہ کا مرکز بن گئی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر اسپیکر نے آگاہ کیا کہ آج وقفہ سوالات شامل نہیں ہوگا۔ اسی دوران انہوں نے چیف وہپ عامر ڈوگر کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے چیمبر میں طلب کیا اور کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے نوٹیفکیشن کے لیے آپ کو بلا رہا ہوں۔

بعد ازاں اسپیکر نے ایوان میں محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر مقرر کیے جانے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ اجلاس کے دوران قانون سازی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان نرسنگ کونسل آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ ترمیمی بل 2026، درآمدات و برآمدات ایکٹ ترمیمی بل، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل اور لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل بھی ایوان میں پیش کیے گئے۔ وزیر قانون نے مزید برآمدی ترقی فنڈ ترمیمی بل 2026، ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان ترمیمی بل 2026، پاکستان ٹیلی مواصلات تنظیم نو ترمیمی بل، فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ترمیمی بل، متبادل تنازعات کے حل سے متعلق ترمیمی بل اور دارالحکومت اسلام آباد میں ملکیت و انتظام سے متعلق بل بھی قومی اسمبلی میں پیش کیے۔اجلاس میں پیش کیے گئے تمام بلز وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے ایوان میں رکھے گئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت قانون سازی کے عمل کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کے موڈ میں ہے۔






Discussion about this post