اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامہ خیز اجلاس میں ایران کی اندرونی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان نہایت سخت اور معنی خیز بیانات کا تبادلہ ہوا۔ دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح تضاد نے اجلاس کی فضا کو غیر معمولی طور پر کشیدہ کر دیا۔ سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مندوب نے کہا کہ ایران میں لاکھوں افراد حکومتی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر ہیں اور امریکا ان کے مطابق ایران کے بہادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایرانی حکومت نے مظاہرین کو دبانے کے لیے بے رحمانہ طاقت کا استعمال کیا، جو نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکی مندوب نے خبردار کیا کہ اگر مظاہرین کے خلاف قتل و غارت کا سلسلہ بند نہ ہوا تو امریکا تمام ممکنہ آپشنز پر غور کرنے پر مجبور ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ صرف بیانات تک محدود نہیں رہتے بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔ امریکی نمائندے مائیک والٹز نے ایران میں انٹرنیٹ بندش کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام جان بوجھ کر زمینی حقائق کو عالمی برادری سے چھپانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایران کو دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تہران امریکا اور اسرائیل دونوں کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ ایران نے امریکی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں اپنا مؤقف پیش کیا۔

اقوام متحدہ میں ایران کے نائب مستقل مندوب غلام حسین نے کہا کہ ایران کسی قسم کی کشیدگی یا تصادم کا خواہاں نہیں، تاہم اگر اس کے خلاف کسی بھی نوعیت کی جارحیت کی گئی تو اس کا جواب فیصلہ کن، بھرپور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق دیا جائے گا۔ ایرانی نائب مندوب کا کہنا تھا کہ وہ قوتیں جو بارہ روزہ جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہیں، اب ایران میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے وہی اہداف حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 8 اور 10 جنوری کے دوران ایران کو داعش طرز کی دہشتگردی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے بیرونی مداخلت کا جواز پیدا کیا جا رہا ہے۔ غلام حسین نے واضح کیا کہ مظاہرین کے تحفظ یا انسانی ہمدردی کے نام پر طاقت کے استعمال کی دھمکیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہوں گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو خطرناک عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ایرانی مندوب نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی براہ راست یا بالواسطہ جارحانہ اقدام کو بروقت مسترد کرے اور اس کی مذمت کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے خلاف کوئی غیر قانونی کارروائی کی گئی تو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اس کا قانونی اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، اور اس کے تمام نتائج کی ذمہ داری جارحیت کا آغاز کرنے والوں پر عائد ہوگی۔







Discussion about this post