مودی حکومت پر مبینہ بدعنوانیوں کا بوجھ اب چھپائے نہیں چھپ رہا، جس کا خمیازہ بھارتی فوج کو عالمی سطح پر شدید تنقید اور ساکھ کے بحران کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اسی دوران قطر میں ایک سابق بھارتی بحری افسر کی دوبارہ حراست نے بھارت کی خارجہ پالیسی اور سفارتی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ نئی دہلی کی جانب سے یہ تسلیم کیا جا چکا ہے کہ سابق نیوی افسر پورنیندو تیواری اس وقت قطری حکام کی تحویل میں ہیں، جو بھارت کے لیے ایک اور ناخوشگوار سفارتی پیش رفت ہے۔ اس سے پہلے بھی قطر میں آٹھ سابق بھارتی بحری اہلکاروں کو حساس نوعیت کے الزامات کے تحت گرفتار کیا جا چکا تھا، جس کی تصدیق بھارت کے معتبر اخبار انڈین ایکسپریس نے کی تھی۔ اکتوبر 2023 میں قطری عدالت کی جانب سے ان افسران کو سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے نے بھارت میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔ اطلاعات کے مطابق بھارت کی جانب سے بھرپور سفارتی دباؤ ڈالنے کے باوجود دوحہ حکومت نے ان افراد کو بھارت کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا، جو مودی سرکار کے لیے واضح ناکامی سمجھی جا رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈین ایکسپریس نے خود اپنی رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا کہ اس معاملے نے بھارتی فوج کو عالمی سطح پر سبکی سے دوچار کر دیا ہے۔ اخبار کے مطابق موجودہ حکومت اس بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی مؤثر سفارتی حکمتِ عملی تشکیل دینے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل میں نریندر مودی اور بھارت کی ہندوتوا پالیسی پر شائع ہونے والی سخت تنقید نے بین الاقوامی سطح پر بھارت کی شبیہ کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج میں پیشہ ورانہ تربیت کا فقدان ہے اور ادارے کے اندر پھیلی بدعنوانی نے اس کی عسکری ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ماہرین کے مطابق اندرونی کرپشن پہلے ہی بھارتی فوج کی کارکردگی پر سوالیہ نشان تھی، مگر حالیہ واقعات نے ان خدشات کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔یہ صورتحال نہ صرف بھارت اور قطر کے تعلقات کے لیے ایک نازک موڑ بن چکی ہے بلکہ اس نے بھارتی فوج اور مودی حکومت کی عالمی ساکھ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔






Discussion about this post