امریکا کے سابق سیکریٹری آف اسٹیٹ اور سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے ایران کی حکومت کی موجودہ صورت حال پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ ملک میں موجودہ بحران کے دوران فوجی مداخلت ان کی آخری امید ہو سکتی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پومپیو نے کہا کہ ایران کے مختلف شہروں میں جاری احتجاجات حکومت کے لیے سنگین چیلنج ہیں، اور ایرانی حکومت کے 47 سال اور ٹرمپ کے 47ویں صدر ہونے کو انہوں نے ایک حیرت انگیز اتفاق قرار دیا۔ انہوں نے مظاہرین کے حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کی سڑکوں پر احتجاج کرنے والے ایرانی عوام اور ان کے ساتھ شامل موساد ایجنٹس کو نیا سال مبارک ہو۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایرانی مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کے اشارے دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین پر گولیاں چلا کر انہیں ہلاک کرتی ہے تو امریکا مظاہرین کی حفاظت کے لیے آگے آئے گا۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا ہر ممکن اقدام کے لیے تیار ہے اور نشانہ بھی پہلے سے طے کر چکا ہے، تاکہ خطے میں عدم استحکام اور انسانی نقصان کو روکا جا سکے۔







Discussion about this post