تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھارت کی ہٹ دھرمی اور جھوٹ بے نقاب

by ویب ڈیسک
دسمبر 19, 2025
ruffle plane india
Share on FacebookShare on Twitter

اقوام متحدہ کے خصوصی ماہرین کی تازہ رپورٹ نے جنوبی ایشیا کی حالیہ کشیدگی پر ایک واضح اور دوٹوک مؤقف پیش کرتے ہوئے پاکستان کے بیانیے کی توثیق کر دی ہے۔ پاک بھارت تنازع اور حالیہ عسکری واقعات سے متعلق اس جامع رپورٹ میں بھارتی اقدامات پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں اور متعدد پہلوؤں سے ان پر اعتراض کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اسپیشل رپوٹیورز کی جانب سے جاری رپورٹ میں پہلگام حملے کی کھل کر مذمت کی گئی ہے اور اس واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سزا دینے پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان نے اس حملے میں کسی بھی قسم کے کردار سے انکار کیا اور ابتدا ہی سے غیرجانبدار، شفاف اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ماہرین کے مطابق بھارت اس دعوے کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا کہ پہلگام حملے میں پاکستان کی ریاستی سطح پر شمولیت موجود تھی۔ رپورٹ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ دہشتگردی کے نام پر یکطرفہ فوجی طاقت کے استعمال کا کوئی علیحدہ اور تسلیم شدہ حق موجود نہیں، اور اگر طاقت کا استعمال غیرقانونی ہو تو وہ حقِ زندگی کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کا یہ طرزِ عمل خطے کو بڑے تصادم کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

pakistan

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 7 مئی 2025 کو بھارت نے آپریشن سندور کے تحت پاکستان کی حدود میں فوجی کارروائی کی، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت نے آرٹیکل 51 کے تحت سلامتی کونسل کو باضابطہ اطلاع بھی نہیں دی، جو مقررہ بین الاقوامی طریقۂ کار سے انحراف ہے۔ خصوصی ماہرین کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حملوں کے دوران شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، مساجد متاثر ہوئیں اور کئی بے گناہ شہری جان سے گئے یا زخمی ہوئے۔ اس کے برعکس پاکستان نے 7 مئی کو بھارتی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر بھارتی اقدام کو مسلح حملہ تصور کیا جائے تو پاکستان کو مکمل طور پر دفاعِ ذات کا حق حاصل ہے۔ ماہرین نے قرار دیا ہے کہ بھارتی کارروائیاں پاکستان کی خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

ruffle plane india 2

اقوام متحدہ کے خصوصی ماہرین نے سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر بھی پاکستان کے مؤقف کی مکمل تائید کی ہے۔ رپورٹ میں بھارت کے اس اعلان پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے جس میں معاہدے کو ہیلڈ ان ابینس رکھنے کی بات کی گئی۔ ماہرین کے مطابق پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ یا اس کی دھمکی کروڑوں پاکستانیوں کے بنیادی انسانی حقوق کو متاثر کرتی ہے، جن میں پانی، خوراک، صحت، روزگار، ماحول اور ترقی کے حقوق شامل ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سرحد پار آبی حقوق میں مداخلت سے ہر صورت اجتناب لازم ہے اور پانی کو سیاسی یا معاشی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرین نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔اقوام متحدہ کے مطابق سندھ طاس معاہدہ اس وقت تک مؤثر رہتا ہے جب تک دونوں فریق باہمی رضامندی سے کسی نئے معاہدے کے ذریعے اسے ختم نہ کریں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے استعمال کی جانے والی ہیلڈ ان ابینس کی اصطلاح قانونی طور پر مبہم ہے اور معاہداتی قانون کے تحت معطلی سے متعلق شقوں کو بھارت نے واضح طور پر بروئے کار نہیں لایا۔ مقررہ طریقۂ کار کو نظرانداز کر کے یکطرفہ اقدام غیرقانونی تصور ہوتا ہے، جبکہ کسی بھی تنازع کا حل معاہدے میں درج تصفیہ کے نظام کے تحت ہی ہونا چاہیے۔ ماہرین کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی کسی شق کی خلاف ورزی ثابت نہیں ہو سکی۔ بھارت کی جانب سے سرحد پار دہشتگردی کے الزامات کو آبی معاہدے سے جوڑنا قانونی طور پر غیر متعلق قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنیادی حالات کی تبدیلی کا مؤقف اختیار کرنے کے لیے سخت معیار درکار ہوتا ہے، اور صرف آبادی یا توانائی کی ضروریات اس کی بنیاد نہیں بن سکتیں۔ بھارت پانی روکنے یا معاہدہ معطل کرنے کے جواز کے لیے قابلِ اعتماد شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، جبکہ ایسے اقدامات کا براہِ راست بوجھ عام پاکستانی شہریوں کے حقوق پر پڑتا ہے۔

بشکریہ ٹوئٹر

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں بگاڑ کی بنیادی وجہ بھارتی طرزِ عمل ہے۔ انڈس کمیشن کے سالانہ اجلاس 2022 کے بعد منعقد نہیں ہو سکے، ڈیٹا کے تبادلے میں رکاوٹیں پیدا کی گئیں اور تصفیہ جاتی شقوں پر اختلافات نے معاہدے کی روح کو مجروح کیا۔ ماہرین کے مطابق بھارت نے ثالثی کارروائیوں میں شرکت سے گریز کیا اور معاہدے کے دائرہ اختیار کو بھی چیلنج کیا۔ اقوام متحدہ کے خصوصی رپوٹیورز نے بھارت سے باضابطہ وضاحت، ممکنہ تلافی اور معذرت پر جواب طلب کیا ہے، ساتھ ہی انسانی نقصان روکنے کے عملی اقدامات اور معاہدے پر نیک نیتی سے عملدرآمد کے حوالے سے بھی واضح موقف مانگا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے ساتھ اقوام متحدہ نے مودی حکومت کو ایک سوالنامہ ارسال کرتے ہوئے بھارت کے بیانیے کو چیلنج کیا ہے۔ سوالات میں پوچھا گیا ہے کہ آیا بھارت اپنے الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت رکھتا ہے، کیا وہ غیرقانونی طاقت کے استعمال سے ہونے والے انسانی نقصان کا ازالہ اور معافی دینے پر آمادہ ہے، اور کیا وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے قانونی اور انسانی حقوق کا احترام کرے گا۔ مزید یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ آیا بھارت تنازعات کے حل سے متعلق معاہدے کی شقوں پر عمل کرے گا اور مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کے پُرامن حل اور کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھارت کو ان تمام سوالات کے جواب دینے کے لیے 60 دن کی مہلت دی ہے اور واضح کیا ہے کہ بھارت کا جواب اس رپورٹ کے ساتھ اقوام متحدہ کی ویب سائٹ اور ہیومن رائٹس کونسل میں پیش کیا جائے گا۔ تاہم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت نے اب تک اقوام متحدہ کے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا، جس کے بعد خصوصی ماہرین نے یہ تفصیلی رپورٹ جاری کی۔ یہ رپورٹ نہ صرف خطے کی موجودہ صورتحال پر ایک سنجیدہ بین الاقوامی تشخیص ہے بلکہ پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر ایک مضبوط اخلاقی اور قانونی بنیاد بھی فراہم کرتی ہے۔

Previous Post

دبئی اور ابوظبی کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش

Next Post

پاکستان اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا

Next Post
بھارتی قیادت سیزفائر برداشت نہیں کر پا رہی، پاکستان نے مؤثر ردعمل دیا

پاکستان اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا

Discussion about this post

تار نامہ

children

یتیم بچوں اور بیواؤں کے لیے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

port

پاکستانی بندرگاہوں کی عارضی بندش سے متعلق زیرِ گردش نوٹیفکیشن جعلی ہے

ayat al khumani 2

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ کیوں مؤخر ہوئی ؟

currency note

نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کریں؟

dog

پنجاب میں 2 سال کے دوران 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist