لاہور کی ضلع کچہری میں یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی کے کیس میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ عدالت نے ڈکی بھائی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور اے ٹی ایم کارڈز کی سپرداری سے متعلق درخواست پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے سماعت کے دوران ڈکی بھائی کی جانب سے دائر سپرداری درخواست کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر این سی سی آئی اے کے وکیل نے ایک بار پھر عدالت سے مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے سختی سے ہدایت دیتے ہوئے حکم دیا کہ 15 دسمبر تک ہر صورت رپورٹ جمع کرائی جائے۔ اسی ہدایت کے ساتھ کیس کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔

یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ پہلے ہی جوئے کی ایپس کی پروموشن کیس میں ڈکی بھائی کی درخواستِ ضمانت منظور کر چکی ہے۔ عدالت نے انہیں 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے ضمانت پر رہا کیا تھا۔ ڈکی بھائی کا کیس سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے لیے ایک اہم مثال بنتا جا رہا ہے، جہاں قانونی تقاضوں، سائبر کرائم کی تحقیقات اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کے اثرات پر نئی بحثیں جنم لے رہی ہیں۔






Discussion about this post