تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

پاکستان میں کرپشن کم اور شفافیت بڑھی، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

by ویب ڈیسک
دسمبر 9, 2025
no corruption
Share on FacebookShare on Twitter

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے 2025 جاری کرتے ہوئے ایک اہم اور مثبت تصویر پیش کی ہے، جس کے مطابق ملک میں کرپشن کے تاثر میں واضح کمی اور شفاف طرزِ حکمرانی کی جانب نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ سروے کے مطابق 66 فیصد شہریوں نے بتایا کہ گزشتہ برس انہیں کسی سرکاری کام کے لیے رشوت نہیں دینی پڑی، جو عوامی اعتماد میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ اسی طرح 60 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد معاشی ماحول پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہوا ہے، جبکہ رپورٹ موجودہ معاشی صورتِ حال کو زبوں حالی سے استحکام اور پھر ترقی کی جانب بڑھنے کا سفر قرار دیتی ہے۔ قوتِ خرید کے بارے میں رائے ملی جلی رہی؛ 43 فیصد نے بہتری جبکہ 57 فیصد نے کمی محسوس کی۔ رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ 51 فیصد افراد کا مطالبہ ہے کہ ٹیکس چھوٹ لینے والے اسپتال، تعلیمی ادارے اور فلاحی تنظیمیں عوام سے کوئی فیس وصول نہ کریں، جبکہ 53 فیصد کے مطابق ان اداروں کو اپنے ڈونرز اور عطیات کی مکمل تفصیل ظاہر کرنی چاہیے۔ فارن پالیسی اور گورننس کے حوالے سے آئی ایم ایف کی نئی رپورٹ بھی سامنے آچکی ہے، جبکہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل واضح کرتی ہے کہ این سی پی ایس براہِ راست کرپشن کی شرح نہیں ناپتا بلکہ عوام کے احساسات اور تجربات کو ظاہر کرتا ہے۔

office

عوامی رائے کے مطابق بدعنوانی کے تاثر میں پولیس پہلے نمبر پر ہے، ٹینڈر و پروکیورمنٹ دوسرا، عدلیہ تیسرا، بجلی و توانائی چوتھا اور صحت کا شعبہ پانچواں نمبر رکھتا ہے۔ تاہم ادارہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں پولیس کے بارے میں تاثر میں 6 فیصد مثبت تبدیلی آئی ہے، جبکہ تعلیم، زمین و جائیداد، بلدیاتی امور اور ٹیکسیشن میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ بدعنوانی کی وجوہات میں شفافیت کا فقدان، معلومات تک محدود رسائی اور کرپشن کیسز میں طویل تاخیر شامل ہیں۔ 59 فیصد افراد کا خیال ہے کہ صوبائی حکومتوں پر بدعنوانی کا الزام زیادہ لگتا ہے۔ شرکا نے کرپشن کے خاتمے کے لیے احتساب کے نظام کو مؤثر بنانے، صوابدیدی اختیارات کم کرنے، حقِ معلومات کے قوانین بہتر کرنے اور عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن جیسے اقدامات کو ضروری قرار دیا۔ سروے میں شامل 83 فیصد افراد سیاسی جماعتوں کی بزنس فنڈنگ پر پابندی یا سخت ضابطہ کاری کے حامی ہیں، جبکہ 42 فیصد بہتر وِسل بلوئر قوانین چاہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 70 فیصد افراد کسی بھی سرکاری کرپشن رپورٹنگ سسٹم سے واقف ہی نہیں تھے، جو اصلاحات کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

24b404da d069 41b2 a2f5 3665e6fbdedc

یہ ملک گیر سروے 22 سے 29 ستمبر 2025 کے دوران منعقد ہوا، جس میں 4 ہزار افراد نے حصہ لیا، جن میں 55 فیصد مرد، 43 فیصد خواتین اور 2 فیصد خواجہ سرا شامل تھے۔ یہ رپورٹ مجموعی طور پر اس سمت کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان شفاف طرزِ حکمرانی اور بہتر احتساب کے نظام کی جانب بتدریج آگے بڑھ رہا ہے۔

Previous Post

صدر ٹرمپ کے دوسرے دور میں پاکستان نے کامیاب سفارتی تعلقات بنائے: فارن پالیسی

Next Post

پاکستان کی معاشی سمت مستقل بہتری کی جانب بڑھ رہی ہے

Next Post
پاکستان کسی دوسرے حادثے کا متحمل نہیں ہوسکتا

پاکستان کی معاشی سمت مستقل بہتری کی جانب بڑھ رہی ہے

Discussion about this post

تار نامہ

children

یتیم بچوں اور بیواؤں کے لیے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

port

پاکستانی بندرگاہوں کی عارضی بندش سے متعلق زیرِ گردش نوٹیفکیشن جعلی ہے

ayat al khumani 2

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ کیوں مؤخر ہوئی ؟

currency note

نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کریں؟

dog

پنجاب میں 2 سال کے دوران 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist