وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایک غیر معمولی اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے آنے والے تمام تارکینِ وطن کی فائلوں کا نہایت باریک بینی سے ازسرِ نو جائزہ لے رہے ہیں، تاکہ قومی سلامتی پر کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت روکا جا سکے۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران اُن کا کہنا تھا کہ جو بھی فرد ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہوا، اسے بلا تاخیر امریکا سے باہر نکال دیا جائے گا۔ ان کے مطابق حکومت کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے لیے تیار نہیں اور داخلی تحفظ کو پہلی ترجیح بنایا جا رہا ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ فی الحال پناہ گزینوں سے متعلق تمام فیصلے، اسائلم کیسز. اور خصوصی امیگرینٹ ویزوں کا اجرا عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں پیش آنے والے ایک افسوس ناک واقعے کے بعد صدر ٹرمپ کا وسیع پیمانے پر ڈی پورٹیشن کا منصوبہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور ناگزیر ہو چکا ہے۔

صدر کی صحت سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیرولین لیوٹ نے یقین دلایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ احتیاطی بنیادوں پر کیے گئے ایم آر آئی کے نتائج تسلی بخش ہیں اور میڈیکل رپورٹ کے مطابق ان کا دل بالکل درست اور مضبوط ہے۔ واضح رہے کہ امریکا نے افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے تمام افراد کے لیے فی الحال ویزا جاری کرنے کا عمل بھی معطل کر دیا ہے، جبکہ اسائلم کی تمام درخواستوں پر فیصلے روک دیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے ایک افغان شہری کی جانب سے نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے افسوس ناک واقعے کے بعد کیا گیا ہے، جس نے امریکی حکومتی حلقوں کو مزید سخت اقدامات پر مجبور کر دیا۔







Discussion about this post