سندھ ہائی کورٹ میں ای چالان کے بھاری جرمانوں کے خلاف دائر درخواستوں پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جماعت اسلامی، مرکزی مسلم لیگ، بس اونرز ایسوسی ایشن اور متعدد شہریوں کی جانب سے بھاری جرمانوں کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی تھیں، جن پر عدالت میں سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور اور کراچی میں ٹریفک خلاف ورزیوں کے جرمانوں میں نمایاں فرق ہے، جو شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی والوں پر زیادہ بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جو غیر منصفانہ اور قابلِ اعتراض ہے۔

عدالت نے وکیل کے مؤقف پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کا موازنہ دوسرے شہروں سے نہ کیا جائے۔ عدالت نے ای چالان کے خلاف حکمِ امتناع جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی اور واضح کیا کہ فوری طور پر کوئی عبوری حکم نہیں دیا جا سکتا۔سندھ ہائی کورٹ نے ڈی آئی جی ٹریفک سمیت تمام فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر تمام متعلقہ فریق اپنا تفصیلی جواب جمع کرائیں، جس کے بعد ہی درخواست گزار کے دلائل سنے جائیں گے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی۔ درخواستوں میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ای چالان کے بھاری جرمانے شہریوں کے لیے مالی بوجھ بن چکے ہیں اور ان پر نظرِ ثانی ضروری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ معاملے کا فیصلہ تمام فریقین کے جواب موصول ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔








Discussion about this post