بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جے پور میں نو برس کی چوتھی جماعت کی طالبہ کی دل دہلا دینے والی موت کے معاملے پر سی بی ایس ای کی دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی جامع رپورٹ جاری کردی ہے، جس نے اسکول انتظامیہ کی سنگین غفلت اور حفاظتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمسن بچی نے اپنی موت سے تقریباً 45 منٹ پہلے کلاس ٹیچر سے پانچ مرتبہ مدد مانگی۔ وہ اپنی ڈیجیٹل سلیٹ پر کلاس فیلوز کی جانب سے لکھے گئے نازیبا اور تکلیف دہ تبصروں کی شکایت کر رہی تھی۔ مگر افسوس کہ اصلاحی اقدام اٹھانے کے بجائے ٹیچر نے اسے کلاس کے سامنے ڈانٹا، جس سے بچی شدید ذہنی دباؤ، شرمندگی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آئی۔ تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بچی میں ذہنی پریشانی اور تناؤ کی متعدد علامات کے باوجود اسے اسکول کونسلر کے پاس نہ بھیجا گیا، جو کہ سی بی ایس ای کے لازمی اینٹی بُلنگ قواعد اور پوکسو رپورٹنگ کے قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔

مزید براں کمیٹی نے انکشاف کیا کہ جس جگہ سے بچی نے چھلانگ لگائی، اسے فرانزک جانچ سے پہلے ہی دھو دیا گیا، جس سے شواہد اکٹھا کرنے کا عمل متاثر ہوا۔ اس سنگین غفلت کے نتیجے میں سی بی ایس ای نے اسکول کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اسکول الحاق کے بائی لاز کی بہت سی دفعات پر پورا ہی نہیں اترتا تھا۔ بچوں کی حفاظت، بُلنگ کی روک تھام اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق انتظامات میں ناقابلِ قبول کوتاہیاں پائی گئیں۔ رپورٹ میں صاف کہا گیا کہ اسکول ایک محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کرنے میں مکمل ناکام رہا۔ پینل کے مطابق اسکول میں نہ تو سیکیورٹی و سیفٹی کمیٹی قائم تھی اور نہ ہی سی سی ٹی وی مانیٹرنگ مناسب تھی۔ مزید برآں، کمیٹی نے بچی کے والدین سے ملاقات کے بعد بتایا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں والدین کی جانب سے بُلنگ کی کئی شکایات انتظامیہ نے مسلسل نظر انداز کیں، جو ناقابلِ معافی انتظامی غفلت کی بدترین مثال ہے۔اس المناک واقعے نے ایک بار پھر یہ سنگین سوال اٹھا دیا ہے کہ بچوں کی حفاظت کے ذمہ دار ادارے آخر کب اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا شروع کریں گے۔








Discussion about this post