تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

’کیس نمبر 9‘ میں عدلیہ سے متعلق ڈائیلاگ نے ہلچل مچا دی

by ویب ڈیسک
نومبر 20, 2025
case no
Share on FacebookShare on Twitter

شاہزیب خانزادہ کے قلم سے لکھے  ڈرامہ سیریل  کیس نمبر 9 آغاز ہی سے کہانی، مکالموں اور جرات مندانہ موضوعات کے باعث ناظرین کے دلوں میں جگہ بنا چکا ہے۔ جنسی ہراسانی، ریپ اور انصاف کے پیچیدہ نظام جیسے سنجیدہ ایشوز کو جس شدت اور سچائی سے اس ڈرامے میں پیش کیا جا رہا ہے، وہ اسے موجودہ ڈراموں میں ایک منفرد مقام دے رہا ہے۔ تازہ ترین قسط میں شامل ایک مکالمہ نہ صرف سراہے جانے لگا بلکہ سوشل میڈیا پر بحث کا طوفان برپا کر گیا۔ اس ڈائیلاگ میں جسٹس عائشہ ملک اور  جسٹس ( رر)  منصور علی شاہ اور پارلیمانی بالادستی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ جملہ سنایا گیا کہ جسٹس منصور علی شاہ ملک کے چیف جسٹس بن سکتے تھے، اگر 26ویں آئینی ترمیم ان کے راستے میں نہ لائی جاتی۔

شاہزیب خانزادہ کے لکھے ڈرامے میں چھبیسویں ترمیم، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس منصور علی شاہ اور پارلیمانی سپریمیسی کا زکر۔۔
پتا لگ رہا ہے کسی صحافی نے ڈرامہ لکھا ہے۔

pic.twitter.com/kVYFA0YB4b

— Waseem Abbasi (@Wabbasi007) November 19, 2025

یہ سین اتنی تیزی سے وائرل ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں بار شیئر ہونے لگا۔ صحافی وسیم عباسی نے تبصرہ کرتے ہوئے دلچسپ انداز میں کہا کہ مکالمہ دیکھ کر لگتا ہے کہ ڈرامہ کسی صحافی نے لکھا ہے۔ کئی صارفین نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ جیو کے آفیشل یوٹیوب چینل پر اپلوڈ ہونے والی قسط میں یہ مکالمہ غائب ہے۔ وسیم ملک کے مطابق قسط نمبر 17 سے یہ پورا سین نکال دیا گیا ہے، حالانکہ سوشل میڈیا پر یہی کلپ سب سے زیادہ شیئر کیا جا رہا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ ملک کے چیف جسٹس ہوتے اگر 26 ویں آئینی ترمیم کرکے ان کا راستہ نہ روکا جاتا،شاہزیب خانزادہ کے ڈرامہ کیس نمبر 9 کا ڈائیلاگ pic.twitter.com/ZrdOMZmfoa

— Aatif Khattak (@MalakAatifKhan) November 19, 2025

کچھ صارفین نے تو یہ تک پوچھ لیا کہ آیا یہ مکالمہ واقعی اصل قسط کا حصہ تھا یا بعد میں ایڈٹ کر کے شامل کیا گیا۔ یہ سوالات ڈرامے کے اثر اور اس کی طاقتور تحریر کی بازگشت ہیں۔ڈرامے کی مرکزی کہانی ایک ریپ سروائیور کی انصاف کے لیے بے خوف لڑائی کے گرد گھومتی ہے۔

صبا قمر نے متاثرہ لڑکی کا کردار دل ہلا دینے والی شدت کے ساتھ ادا کیا ہے، جبکہ فیصل قریشی ایک سنگدل کردار میں پوری قوت سے سامنے آئے ہیں۔ رشنا خان، جو حقیقی زندگی میں شاہزیب خانزادہ کی اہلیہ ہیں، ڈرامے میں فیصل قریشی کی بیوی کا کردار ادا کر رہی ہیں، جس سے کہانی میں ایک نیا جذباتی زاویہ شامل ہو جاتا ہے۔

کیس نمبر 9 نہ صرف ایک ڈرامہ ہے بلکہ معاشرتی رویوں، انصاف کے نظام اور طاقت کے مراکز پر اٹھایا جانے والا ایک بے حد اہم سوال بھی ہے۔ یہی اس کی مقبولیت اور اثر کی اصل وجہ ہے۔

Previous Post

جین زی کا مقبول پاس ورڈ 1234

Next Post

کراچی 2050 تک دنیا کا پانچواں سب سے بڑا شہر بننے جا رہا ہے

Next Post
56 بڑے شہروں میں جائیدادوں کے سرکاری ریٹس کا نیا نوٹیفکیشن

کراچی 2050 تک دنیا کا پانچواں سب سے بڑا شہر بننے جا رہا ہے

Discussion about this post

تار نامہ

children

یتیم بچوں اور بیواؤں کے لیے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

port

پاکستانی بندرگاہوں کی عارضی بندش سے متعلق زیرِ گردش نوٹیفکیشن جعلی ہے

ayat al khumani 2

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ کیوں مؤخر ہوئی ؟

currency note

نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کریں؟

dog

پنجاب میں 2 سال کے دوران 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist