سکیورٹی کے حوالے سے نوجوان نسل کے متعلق عام تاثر یہ ہے کہ وہ چونکہ مکمل طور پر ڈیجیٹل دور میں پلی بڑھی ہے، اسی لیے انہیں سائبر سکیورٹی کی بہتر سمجھ ہونی چاہیے۔ تاہم پاس ورڈ مینیجر ’’نورڈ پاس‘‘ کی تازہ تحقیق اس تصور کے بالکل برعکس تصویر پیش کرتی ہے۔ تحقیق کے مطابق جین زی (یعنی 1997 کے بعد پیدا ہونے والے نوجوان) کی پاس ورڈ عادات نہ صرف غیر محفوظ ہیں، بلکہ پرانی نسلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور ثابت ہو رہی ہیں۔ سب سے حیران کن انکشاف یہ ہے کہ جین زی میں سب سے مقبول پاس ورڈ صرف "12345” ہے، جب کہ دیگر نمبروں کی سیدھی ترتیب بھی ٹاپ لسٹ میں شامل ہے۔ لفظ ’’پاس ورڈ‘‘ پانچویں نمبر پر اور سوشل میڈیا کلچر سے لیا گیا لفظ ’’سکیبیڈی‘‘ ساتویں نمبر پر پایا گیا۔ اس کے مقابلے میں بے بی بومرز، یعنی 1946 سے 1964 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل، نسبتاً بہتر پاس ورڈ استعمال کرتی ہے۔ تاہم ان میں بھی "123456” جیسا انتہائی آسان کوڈ سب سے زیادہ مقبول ہے۔ یہی رجحان میلینیئلز اور جنریشن ایکس میں بھی نظر آتا ہے۔

اسی طرح کا نتیجہ رواں سال کے آغاز میں ’’بٹ وارڈن‘‘ کی ایک عالمی تحقیق میں بھی سامنے آیا، جس میں ہزاروں ملازمین سے سروے کیا گیا۔ اس میں بتایا گیا کہ جنریشن زی میں ’’پاس ورڈ تھکاوٹ‘‘ بہت زیادہ ہے، اور 72 فیصد نوجوان ایک ہی پاس ورڈ کو مختلف پلیٹ فارمز پر دوبارہ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے برعکس بے بی بومرز میں یہ شرح صرف 42 فیصد ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمزور پاس ورڈ رکھنے کے باوجود جنریشن زی جدید سکیورٹی اقدامات جیسے پاس کیز، بائیو میٹرکس اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال کرنے میں دیگر نسلوں سے آگے ہے۔ گوگل کی ایک حالیہ رپورٹ بھی یہی ظاہر کرتی ہے کہ نوجوان صارفین روایتی پاس ورڈ پر کم اور جدید سائن ان طریقوں پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔

گوگل کے نائب صدر برائے سیفٹی و پرائیویسی ایون کوسٹوینوس کے مطابق نوجوان نسل پرانے سکیورٹی اصولوں کو چھوڑ کر جدید ٹولز کو اپنا رہی ہے، جو کہ ایک مثبت رجحان ہے۔ ان کے مطابق پاس ورڈز نہ صرف یاد رکھنا مشکل ہیں بلکہ ہیک اور لیک ہونے کا بھی زیادہ خطرہ رکھتے ہیں، اسی لیے ٹیک کمپنیاں انہیں بتدریج ختم کرنے کی جانب بڑھ رہی ہیں۔مجموعی طور پر تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ نوجوان نسل پاس ورڈز کے استعمال میں لاپرواہی برتتی ہے، تاہم وہ ٹیکنالوجی کا سہارا لے کر مستقبل کے زیادہ محفوظ اور آسان سائن ان طریقوں کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔







Discussion about this post