امریکا سعودی عرب بزنس فورم میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی کے دوران اپنے کردار کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے دونوں جوہری طاقتوں کو ’’ٹیرف کی دھمکی‘‘ دے کر ایٹمی جنگ کے دہانے سے واپس کھینچ لیا۔ ٹرمپ کے مطابق اُس وقت پاکستان اور بھارت ایک بڑے عسکری تصادم کے لیے تیار کھڑے تھے اور انہیں ’’ایٹمی ہتھیاروں کی بو‘‘ تک محسوس ہو رہی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دونوں ممالک کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا کہ اگر جنگ چھڑی تو وہ 350 فیصد ٹیرف نافذ کر دیں گے، اور دونوں ممالک امریکا کے ساتھ تجارت کا تصور بھی نہ کریں۔

امریکی صدر نے ہنستے ہوئے کہا کہ جب ان کے مشیروں نے بتایا کہ ایسا کرنا ممکن نہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ دیکھ لو، میں کر کے دکھاتا ہوں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں لاکھوں زندگیوں کو خطرہ لاحق تھا اور اگر ایٹمی گرد اٹھتی تو ’’لاس اینجلس تک پہنچ سکتی تھی‘‘۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت دونوں کو پیغام دیا کہ اگر امن کا راستہ اختیار کرو، تو بہترین تجارتی معاہدے تیار ہیں۔ ان کے بقول اس پیغام کے بعد بھارتی وزیراعظم نے فون کر کے یقین دلایا کہ وہ جنگ نہیں چھیڑیں گے۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اُس وقت پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی انہیں فون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ شاید انہیں اندازہ بھی نہیں کہ انہوں نے ’’لاکھوں جانیں بچا لیں‘‘۔







Discussion about this post