وفاقی دارالحکومت میں کچہری پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث ٹی ٹی پی/فتنۃ الخوارج کے دہشت گرد سیل کے 4 اہم ارکان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑی کامیاب کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ یہ مشترکہ آپریشن انٹیلی جنس بیورو ڈویژن اور سی ٹی ڈی نے کیا، جس کے نتیجے میں اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس جی–11 پر حملے کے مرکزی سہولت کار قانون کے شکنجے میں آ گئے۔ تفتیش کے دوران گرفتار دہشت گرد ساجد اللہ عرف شینا جو خودکش حملہ آور کا بنیادی ہینڈلر تھا اس نے نے تہلکہ خیز انکشافات کیے۔ اس نے بتایا کہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی/فتنۃ الخوارج کے کمانڈر سعید الرحمن عرف داد نے اسے ٹیلیگرام کے ذریعے رابطہ کرکے اسلام آباد میں خودکش حملے کی منصوبہ بندی اور تکمیل کی ہدایات دیں۔
In a joint operation conducted by Intelligence Bureau Division and CTD, four members of the TTP/Fitna al-Khawarij terrorist cell involved in the suicide attack at the Judicial Complex G-11, Islamabad, have been apprehended.
During interrogation, Sajidullah alias Sheena, the… pic.twitter.com/uPaXO9S1Yh
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) November 14, 2025
داد باجوڑ کے چرمانگ کا رہائشی اور وہاں کے نواگئی علاقے کے لیے ٹی ٹی پی کا انٹیلی جنس چیف ہے، جبکہ اس وقت افغانستان میں روپوش ہے۔ساجد کے مطابق داد نے ہی اسے خودکش بمبار عثمان عرف قاری کی تصاویر ارسال کیں، جو شنواری قبیلے اور ننگرہار کے ضلع اچین کا رہائشی تھا۔ افغانستان سے پاکستان داخل ہونے کے بعد ساجد نے اسے اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ٹھہرایا اور حملے کی تیاری شروع کر دی۔ مزید انکشاف ہوا کہ داد کے حکم پر ساجد نے پشاور کے اکھن بابا قبرستان سے خودکش جیکٹ حاصل کی اور اسے اسلام آباد منتقل کیا۔ حملے والے دن اسی نے بمبار عثمان عرف قاری کو خودکش جیکٹ پہنائی، جس کے بعد اسے ٹارگٹ کی جانب روانہ کیا گیا۔تفتیشی حکام کے مطابق ٹی ٹی پی/فتنۃ الخوارج کی افغانستان میں موجود قیادت اس نیٹ ورک کے ہر مرحلے پر براہ راست رہنمائی کر رہی تھی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پورا سیل گرفتار کر لیا ہے، جبکہ آپریشنل کمانڈر سمیت تین مزید اہم دہشت گرد بھی پکڑے جا چکے ہیں۔ مزید تحقیقات جاری ہیں اور مزید انکشافات و گرفتاریاں متوقع ہیں۔







Discussion about this post