صاحبزادہ حامد رضا گزشتہ رات پشاور سے فیصل آباد جا رہے تھے کہ اسلام آباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا۔ بعدازاں اسلام آباد پولیس نے انہیں فیصل آباد پولیس کے حوالے کر دیا، جس نے انہیں تھانہ سول لائن میں منتقل کرنے کے بعد اے ٹی سی عدالت کے روبرو پیش کیا۔ یہ گرفتاری اس وقت ہوئی جب انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 31 جولائی کو 9 مئی کے تین مقدمات کا فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت نے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف شبلی فراز، رکن قومی اسمبلی زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا اور شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق سمیت 58 افراد کو دس دس سال قید کی سزا سنائی تھی۔ مجموعی طور پر ان مقدمات میں 196 پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کو سزائیں دی گئی تھیں۔ اس فیصلے کے کچھ دن بعد، 5 اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹر شبلی فراز، قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، اور سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا سمیت نو ارکانِ اسمبلی و سینیٹرز کو نااہل قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو بانی پی ٹی آئی کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتاری کے بعد ملک بھر میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی تھی۔ لاہور، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں مظاہرین نے فوجی و سول تنصیبات پر حملے کیے، مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو نذر آتش کیا، اور کور کمانڈر ہاؤس سمیت مختلف عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔ اس پرتشدد لہر کے دوران آٹھ افراد جاں بحق اور دو سو نوّے سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ بعد ازاں، ملک بھر میں کریک ڈاؤن کیا گیا اور تقریباً انیس سو افراد کو گرفتار کیا گیا، جب کہ بانی اور پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کے خلاف مختلف مقدمات درج کیے گئے۔یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 9 مئی کے واقعات سے متعلق کیسز اب بھی ملکی سیاست میں ہلچل پیدا کیے ہوئے ہیں اور کئی اہم شخصیات کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔







Discussion about this post