نیویارک کے سیاسی منظرنامے پر ایک نیا باب رقم ہونے جا رہا ہے اور اس کہانی کے مرکزی کردار ہیں 34 سالہ ظہران ممدانی، جو چار نومبر کو ہونے والے میئر کے انتخابات میں سب سے طاقتور امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں۔ یوگنڈا میں ایک بھارتی نژاد گھرانے میں پیدا ہونے والے ممدانی سات برس کی عمر میں امریکہ منتقل ہوئے اور 2018 میں امریکی شہریت حاصل کی۔ آج وہ نہ صرف نیویارک بلکہ پورے امریکہ میں امید، تنوع اور جرات کی علامت بن چکے ہیں۔ اگر وہ کامیاب ہو گئے تو نیویارک کی تاریخ میں وہ پہلے مسلمان میئر ہوں گے۔ ظہران ممدانی کی شخصیت نے عالمی توجہ تب حاصل کی جب انہوں نے غزہ کے شہریوں کی کھل کر حمایت اور اسرائیلی پالیسیوں پر دوٹوک مخالفت کی۔ ایک موقع پر انہوں نے یہ تک کہہ دیا کہ اگر وزیرِاعظم نیتن یاہو ان کے دورِ اقتدار میں نیویارک آئے تو وہ ان کی گرفتاری کے احکامات جاری کریں گے۔ منگل کے روز نیویارک کے عوام تین مختلف سیاسی جہتوں کے درمیان فیصلہ سنائیں گے , ایک نوجوان بائیں بازو کا امیدوار (ظہران ممدانی)، ایک سکینڈل زدہ تجربہ کار سیاستدان (اینڈریو کومو)، اور ایک قدامت پسند ری پبلکن آؤٹ سائیڈر (کرٹس سلیوا)۔

یہ انتخاب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گہری دلچسپی اور نگرانی میں ہو رہا ہے، جو خود ممدانی کو “چھوٹا کمیونسٹ” کہہ کر طنز کر چکے ہیں۔ممدانی نوجوانوں، تارکینِ وطن اور مزدور طبقے میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔ ان کی انتخابی مہم کا مرکز شہر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے اور وہ کرایوں پر سخت کنٹرول، مفت ڈے کیئر، عوامی ٹرانسپورٹ مفت کرنے، اور سرکاری سطح پر چلنے والی گروسری دکانوں کے قیام جیسے جرات مندانہ وعدوں کے ذریعے عام شہریوں کا دل جیت رہے ہیں۔ادھر سابق گورنر اینڈریو کومو، جنہیں 2021 میں جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد مستعفی ہونا پڑا تھا، اب آزاد امیدوار کے طور پر واپسی کی کوشش میں ہیں۔ ان کی مہم قانون نافذ کرنے والے اداروں میں 5 ہزار نئے افسران کی بھرتی اور سستی رہائش، صحت و تعلیم کے فروغ پر مرکوز ہے۔ ری پبلکن امیدوار کرٹس سلیوا، جو "گارڈین اینجلز” گروپ کے بانی کے طور پر جانے جاتے ہیں، اگرچہ جیت کے لیے مضبوط پوزیشن میں نہیں ہیں، لیکن ان کے ووٹوں کی تقسیم نتیجہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ عوامی تحفظ، مہنگائی اور بے گھر افراد کے مسائل پر زور دے رہے ہیں۔ ظہران ممدانی وہ غیر روایتی امیدوار ہیں جنہوں نے روایت سے ہٹ کر سیاست کی نئی زبان متعارف کرائی ہے۔ اگر وہ جیت گئے تو یہ نہ صرف نیویارک بلکہ پوری مغربی دنیا کے لیے تاریخ ساز لمحہ ہوگا بالکل ویسا ہی جیسا لندن میں صادق خان کے میئر بننے کے بعد ہوا تھا۔







Discussion about this post