اردن کے رائل انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی جاری کردہ فہرست نے مسلم دنیا کے اثر و رَسوخ کے نقشے کو نمایاں کر دیا ہے۔قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کو مسلم دنیا کی سب سے بااثر شخصیت قرار دیا گیا ہے۔ پاکستانی قومی مکتبِ فکر کے روشن ستون، مفتی تقی عثمانی، ڈھیر ساری دنیاوی اور دینی عزّتوں کے بیچ دوسری بااثر ترین شخصیت کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ یہ اعزاز ان کی علمی گہرائی، فکری سالمیت اور امتِ مسلمہ پر اثر انداز ہونے والی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

معروف عالم دین مولانا طارق جمیل بھی اس فہرست کے پچاس نمائندہ اور بااثر شخصیات میں شامل ہو کر روحانی و سماجی اثر کا ثبوت دے رہے ہیں۔ مزید برآں فہرست میں سعودی شاہ سلمان، ولی عہد محمد بن سلمان، ایران کے رہنما آیت خامنہ ای، اردن کے شاہ دوم اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان جیسے عالمی رہنما شامل ہیں۔ پاکستان سے متعدد معروف شخصیات بشمول وزیرِ اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، میر شکیل الرحمان، حامد میر، حافظ نعیم الرحمان، عمران خان، ڈاکٹر عمر سیف اور ملالہ یوسفزئی کو بھی دنیا کے پانچ سو بااثر مسلموں میں جگہ ملی ہے۔ مفتی تقی عثمانی کا بیان کہ "ہماری حکومت سمیت تمام اسلامی حکومتوں پر جہاد اب فرض ہوچکا ہے” ایک زوردار فکری موقف ہے جس نے عوامی اور سیاسی حلقوں میں بحث کو بھڑکا دیا ہے۔ یہ فہرست نہ صرف اثر و رسوخ کا عکس ہے بلکہ عالمِ اسلام کے روحانی، سیاسی اور سماجی رہنماؤں کی اہمیت اور ذمہ داریوں کی یاد دہانی بھی ہے۔







Discussion about this post