دفتر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کل منعقد ہوں گے جن میں افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے معاملے پر تفصیل سے بات چیت کی جائے گی۔ ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان افغان طالبان پر زور دیتا ہے کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں اور پاکستان کے سیکیورٹی خدشات دور کریں۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کی میزبانی ترکیہ کرے گا جبکہ یہ عمل دوحہ مذاکرات کے فریم ورک کے تحت جاری ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو ضم کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کرتا ہے اور فلسطینی کاز کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کے خلاف مشاورتی رائے دیتے ہوئے اسرائیل کو امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا پابند کیا، جو جنوری 2024 سے اب تک اسرائیل کے خلاف آئی سی جے کا چوتھا فیصلہ ہے۔ طا هر اندرا بی نے مزید کہا کہ او آئی سی سمیت متعدد مسلم ممالک نے آئی سی جے کے فیصلے کی روشنی میں مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے نئے اسرائیلی قوانین کی شدید مذمت کی جو مقبوضہ فلسطین کے حصوں کو غیر قانونی طور پر ضم کرنے سے متعلق ہیں۔ترجمان کے مطابق پولینڈ کے وزیر خارجہ نے دو روزہ دورۂ پاکستان مکمل کیا، جس میں دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے۔ علاوہ ازیں، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مراکش کے وزرائے خارجہ سے روابط بھی ہوئے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق میکنزم کے قیام کی مکمل حمایت کرتا ہے۔







Discussion about this post