واشنگٹن کی جانب سے اس بات کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے آئندہ ہفتے کے ایشیائی دورے کے دوران چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ تجارتی کشیدگی کے باعث یہ ملاقات پہلے غیر یقینی سمجھی جا رہی تھی۔ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے بتایا کہ صدر ٹرمپ جمعہ کی شب ملائشیا کے لیے روانہ ہوں گے۔ اس دورے کے دوران وہ ملائشیا، جاپان اور جنوبی کوریا کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ایپک (Asia-Pacific Economic Cooperation) اجلاس میں خطاب کے بعد چینی صدر سے بھی اہم ملاقات کریں گے۔
دورے کی تفصیلات
-
اتوار (ملائشیا):
ملائشیا کے وزیراعظم انوار ابراہیم سے ملاقات اور آسیان رہنماؤں کی جانب سے عشائیہ میں شرکت۔ -
پیر تا منگل (جاپان):
جاپان روانگی، جہاں نومنتخب وزیراعظم ساناتے تائچی سے بالمشافہ ملاقات ہوگی۔ -
بدھ (جنوبی کوریا):
جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ سے ملاقات، پھر ایپک فورم میں سی ای اوز کے ظہرانے اور رہنماؤں کے عشائیے میں شرکت۔ -
جمعرات (ایپک خطاب اور چین سے ملاقات):
ایپک اجلاس سے خطاب کے بعد شی جن پنگ سے ملاقات ، جسے عالمی میڈیا ممکنہ “ڈی ایسکلیشن موڑ” کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
تجارتی جنگ، پس منظر اور اہمیت
امریکہ اور چین کے مابین کئی ماہ سے جاری تجارتی جنگ اس وقت عروج پر پہنچی جب:
-
بیجنگ نے نایاب زمینی معدنیات کی برآمد پر پابندی عائد کی
-
ٹرمپ انتظامیہ نے مزید ٹیرف لگانے کی دھمکی دے ڈالی
-
دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی مصنوعات پر بھاری ٹیکس نافذ کیے
اگرچہ چند روز سے صدر ٹرمپ چین کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے خوش امید نظر آرہے ہیں، لیکن یہ ملاقات اس جنگ کے مستقبل میں فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ کی شی جن پنگ سے آخری ملاقات جون 2019 میں اوساکا کے جی-20 اجلاس میں ہوئی تھی۔ تازہ بیان میں ٹرمپ نے کہا:
“ہم بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اس سے سب خوش ہوں گے۔”
یہ ملاقات نہ صرف معاشی دنیا کی نظریں اپنی جانب مبذول کیے ہوئے ہے بلکہ ایشیائی خطے کی سفارتی حرکیات کے لیے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔







Discussion about this post