قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ غزہ میں ’’اہم اور ہدفی‘‘ فضائی کارروائیوں کے بعد جنگ بندی معاہدے کو مزید مضبوط بنانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ بیان میں دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا گیا کہ معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی پر اسرائیل کا ردِعمل ’’فیصلہ کن اور سخت‘‘ ہو گا۔ اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے صحافیوں کے سوال پر واضح جواب دیا کہ جنگ بندی ’’ابھی بھی نافذ العمل‘‘ ہے، حالانکہ ایک روز قبل اسرائیل نے حماس پر خلاف ورزی کا الزام لگا کر جنوبی غزہ کو آگ و آہن میں نہلا دیا تھا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حماس کے جنگجوؤں نے ان کے سپاہیوں کو نشانہ بنایا ، اسے 9 روزہ جنگ بندی کی ’’کھلی توہین‘‘ قرار دیتے ہوئے درجنوں گھاتک فضائی حملے کیے گئے۔ جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا جنگ بندی حقیقتاً برقرار ہے؟ تو انہوں نے بھرپور اعتماد سے جواب دیا: ’’ہاں، ہے۔‘‘ ساتھ ہی عندیہ دیا کہ مبینہ خلاف ورزی میں حماس کی اعلیٰ قیادت نہیں بلکہ ’’کچھ باغی عناصر‘‘ ملوث ہو سکتے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ حماس کے ساتھ معاملہ پُرامن طریقے سے حل ہو ، سختی ضرور ہو گی لیکن غیر ضروری نہیں‘‘۔ حماس کے ماتحت غزہ کے شہری دفاعی حکام نے تصدیق کی کہ اسرائیلی بمباری میں کم از کم 45 فلسطینی شہید ہوئے۔ الجزیرہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل بدستور یہ الزام دہرا رہا ہے کہ حملے فلسطینی جنگجوؤں کے فائر کے جواب میں کیے گئے۔
حماس کا شدید ردِعمل
ایک الگ بیان میں مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ رفح کے محاذ پر موجود یونٹس سے ان کا رابطہ کئی ماہ سے منقطع ہے، لہٰذا وہاں پیش آنے والے واقعات کی ذمہ داری ہم پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ دوسری جانب اسرائیل نے مطالبہ دہرایا ہے کہ حماس تمام 28 مقتول یرغمالیوں کی باقیات فوری طور پر واپس کرے، اور واضح کیا کہ رفح کراسنگ مزید اطلاع تک بند رہے گی۔ ادھر حماس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد، سینئر رہنما خلیل الحیہ کی قیادت میں، گزشتہ روز قاہرہ پہنچ چکا ہے، جہاں ثالث ممالک اور فلسطینی دھڑوں کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کی پیش رفت اور عمل درآمد پر اہم مشاورتی اجلاس جاری ہیں۔







Discussion about this post