امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو پاکستان اور افغانستان کے مابین جاری کشیدگی کو ختم کرنا ان کے لیے ’’انتہائی آسان‘‘ ہے۔اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اپنے دورِ صدارت میں انہوں نے آٹھ متوقع جنگوں کو رکنے پر مجبور کیا، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ تصادم بھی شامل تھا۔ٹرمپ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ملاقات میں ان سے شکر گزاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کی مداخلت نے پاک–بھارت جنگ کو روکا اور یوں لاکھوں زندگیوں کو تباہی سے بچا لیا۔ادھر پاکستان اور افغان طالبان حکومت نے باہمی کشیدگی میں کمی لاتے ہوئے جنگ بندی کی مدت بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے، حالاں کہ یہ جنگ بندی کل ختم ہونا تھی۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ دوحہ میں جاری مذاکرات کے اختتام تک فریقین نے مزید 48 گھنٹے تک سیز فائر برقرار رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

مذاکرات میں پاکستان کا سرکاری وفد شرکت کرے گا، جبکہ افغان طالبان کا نمائندہ وفد بھی قطر پہنچ چکا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی 13 اکتوبر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہتے ہوئے سرخیاں بنائی تھیں کہ وہ ’’جنگیں ختم کرانے کے ماہر‘‘ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امن کے اقدام پر نوبیل انعام کی کوئی خواہش نہیں، مگر انہوں نے سنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں جنگ جاری ہے، اور اس معاملے کو دیکھنا ہو گا۔واشنگٹن میں مشرقِ وسطیٰ روانگی سے قبل ایئر فورس ون میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت میں ٹرمپ نے اپنے دیرینہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے عائد کردہ ٹیرف کے خطرات نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ کو ٹالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے الفاظ میں، ان کی سفارت کاری کا اصل مقصد کوئی تمغہ یا اعزاز نہیں بلکہ انسانی جانیں بچانا ہے۔







Discussion about this post