واشنگٹن سے مشرقِ وسطیٰ روانگی کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر دنیا کو حیران کر دیا۔ ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ “جنگیں ختم کرنے میں ماہر” ہیں اور امن کی خاطر اٹھائے گئے اقدامات کے لیے نوبیل انعام کے خواہشمند نہیں بلکہ انسانی جانیں بچانا ہی ان کا مقصد ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی سفارتی کوششوں اور معاشی دباؤ نے دنیا کے کئی محاذوں پر جنگوں کے شعلے بجھائے۔ “یہ میری آٹھویں جنگ ہے جو میں نے ختم کرائی،” ٹرمپ نے کہا، “اور اب سنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی جھڑپیں جاری ہیں ، مجھے یہ معاملہ دیکھنا ہوگا، کیونکہ جنگیں ختم کرنا میرا فن ہے۔” صدر ٹرمپ کے ان بیانات کے وقت پاکستان اور افغانستان کی سرحدی کشیدگی شدت اختیار کر چکی ہے۔ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 23 پاکستانی جوان شہید ہوئے، جب کہ جوابی کارروائی میں 200 سے زائد افغان طالبان مارے گئے۔ ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں فخر سے کہا، “بھارت اور پاکستان کے بارے میں سوچیں ، دہائیوں سے جاری تنازعات، لاکھوں ہلاکتیں، اور میں نے وہ سب ایک دن میں ختم کرا دیا۔ یہ نوبیل کے لیے نہیں، انسانیت کے لیے تھا۔” انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ختم کرانے میں کسی خفیہ مذاکرات کا نہیں بلکہ “ٹیرف کی طاقت” کا ہاتھ تھا۔ “میں نے کہا، اگر تم جنگ لڑو گے تو تم دونوں پر 200 فیصد ٹیرف لگاؤں گا۔ اور بس ، 24 گھنٹوں میں معاملہ ختم۔”

ٹرمپ نے اس موقع پر مشرقِ وسطیٰ کے اپنے اہم دورے کی تفصیلات بھی بتائیں۔ ان کے مطابق، یہ سفر جنگ بندی کو مضبوط بنانے، غزہ کی تعمیرِ نو کو آگے بڑھانے اور اسرائیل و عرب ممالک کے درمیان نئے بابِ تعلقات کھولنے کا آغاز ہے۔ “غزہ کی جنگ ختم ہو چکی ہے، لوگ اب امن چاہتے ہیں،” ٹرمپ نے کہا۔ “ہم جنگ کے ملبے سے ایک نئی امید، ایک نیا نظامِ امن تعمیر کرنے جا رہے ہیں۔” ٹرمپ پیر یا منگل تک حماس کے قبضے میں موجود یرغمالیوں کی رہائی کی امید رکھتے ہیں۔ ان کا پہلا پڑاؤ یروشلم ہوگا، جہاں وہ اسرائیلی پارلیمان سے خطاب کریں گے وہی مقام جہاں آخری بار 2008 میں صدر جارج ڈبلیو بش نے خطاب کیا تھا۔ بعد ازاں وہ شرم الشیخ جائیں گے، جہاں مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ہمراہ امن سربراہی اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں 20 سے زائد عالمی رہنما شرکت کریں گے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا، “یہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نیا موڑ ہے۔ اگر ہم نے آج ہمت دکھائی، تو ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم کچھ ایسا تعمیر کریں جو ہمیشہ قائم رہے۔”چار روزہ جنگ بندی اور غزہ کی بحالی کے لیے مجوزہ منصوبہ ٹرمپ کی امن مہم کے پہلے مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے — ایک ایسا مرحلہ جو شاید تاریخ میں “ٹرمپ پیس ڈاکٹرین” کے نام سے یاد رکھا جائے۔







Discussion about this post