جامعہ کراچی میں طالبہ انیقہ سعید کی المناک موت محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی علامت ہے جو اپنی لاپرواہی سے زندگیوں کے چراغ گل کر رہا ہے۔ انیقہ، شعبۂ سوشل ورک کی ایک باصلاحیت، پُرجوش اور خوابوں سے لبریز طالبہ تھی۔ وہ ایک بہتر مستقبل کا خواب دیکھ رہی تھی مگر یونیورسٹی انتظامیہ کی غفلت نے اُس خواب کو ایک لمحے میں خاک میں ملا دیا۔یہ المیہ صرف ایک خاندان کا نہیں، یہ اس پورے معاشرتی ڈھانچے پر ایک سوالیہ نشان ہے جہاں طلبہ کی جان کی حفاظت ثانوی حیثیت رکھتی ہے، اور ذمہ داران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ جامعہ کراچی میں چلنے والی بیشتر پوائنٹ بسیں کئی دہائیوں پرانی اور ناقابلِ مرمت ہیں۔ان کے ٹوٹے دروازے، زنگ آلود بریکیں اور خستہ ڈھانچے روزانہ ہزاروں طلبہ کی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ کیا یہ بسیں یونیورسٹی ٹرانسپورٹ ہیں یا موت کے پہیے؟ اور ان کے چلنے کی اجازت دینے والے ذمہ دار کون ہیں؟ یہ محض لاپرواہی نہیں، بلکہ مجرمانہ بے حسی ہے ایسی بے حسی جو برسوں سے انتظامیہ اور حکومت دونوں کی آنکھوں پر پٹی باندھے ہوئے ہے۔ اب تحقیقاتی کمیٹیاں نہیں، عملی اقدامات درکار ہیں۔

ہر بڑے سانحے کے بعد ایک ہی روایت دہرائی جاتی ہے۔ ڈرائیور گرفتار، کمیٹی تشکیل اور پھر سب بھلا دیا جاتا ہے۔یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ تحقیقاتی رپورٹیں انیقہ کو واپس نہیں لا سکتیں۔ اصل ضرورت ہے ذمہ داری کے تعین اور ادارہ جاتی اصلاحات کی۔ یعنی کمیٹیاں نہیں انصاف چاہیےرپورٹیں نہیں نتائج چاہیے۔ اب عملی فیصلوں کا وقت ہےاس سانحے کے بعد محض افسوس کافی نہیں۔حکومت، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعہ کراچی انتظامیہ کو فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔
تمام خستہ حال پوائنٹ بسوں کو فوراً بند کیا جائے۔ محفوظ، جدید اور فٹنسسرٹیفائیڈ ٹرانسپورٹ سروس فراہم کی جائے۔ ذمہ دار افسران اور نگران عملے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
تمام یونیورسٹیوں میں سالانہ “سیفٹی آڈٹ” لازمی قرار دیا جائے
اگر ہم اب بھی خاموش رہے تو اگلی خبر کسی اور انیقہ کے بارے میں ہوگی۔وقت آ گیا ہے کہ ہمارا نظام جاگے، اپنی ترجیحات درست کرے،
اور یہ ثابت کرے کہ طلبہ کی زندگی اس کے لیے محض ایک نمبر نہیں۔اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ روشنی واپس لانی ہے یا اندھیرا قبول کرنا ہے۔







Discussion about this post