جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد جو چند روز قبل اسرائیلی حراست سے رہا ہوئے، نجی ائرلائن کی پرواز کے ذریعے بحرین سے اسلام آباد پہنچ گئے۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور موقع پر فلسطینی پرچموں کی کثیر مقدار دیکھی گئی۔ مشتاق احمد نے 45 جہازوں پر مشتمل ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ میں پاکستانی وفد کی قیادت کی تھی، جو اسپین سے غزہ کے لیے امدادی سامان لے کر روانہ ہوا تھا تاکہ اسرائیلی ناکہ بندی توڑی جا سکے۔ تاہم جب قافلہ غزہ کے قریب پہنچا تو اسرائیلی فورسز نے اسے روک دیا، عملے اور کارکنوں کو حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں ملک بدر کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اردن میں پاکستانی سفارت خانے نے وضاحت کی تھی کہ سابق سینیٹر محفوظ طریقے سے عمان روانہ ہو گئے ہیں اور پاکستانی حکام نے ان کی واپسی کی سہولت کو یقینی بنایا۔ وزارتِ خارجہ نے بھی اردن کے حکام کی مدد اور تعاون کو سراہا اور متعلقہ سفارتی اقدامات کی تفصیلات شیئر کیں۔
Alhamdulillah, Senator Mushtaq Ahmad has safely departed for Pakistan.
In accordance with the instructions of the Honorable Deputy Prime Minister of Pakistan, the Embassy of Pakistan in Amman ensured all necessary arrangements were made for his safe and smooth departure.… pic.twitter.com/jjy30Tnrdm— Pakistan Embassy Jordan (@PakinJordan) October 8, 2025
بدھ کو نائبِ وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اردن کے نائبِ وزیراعظم ایمن الصفدی سے بات چیت میں اردن کی جانب سے فلوٹیلا کے رہا شدگان کی وصولی اور واپسی میں سہولت فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق عمان میں پاکستانی سفارت خانے نے مشتاق احمد کی محفوظ اور ہموار روانگی کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے۔ رہائی کے بعد مشتاق احمد نے ایکس پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ 150 ساتھیوں کے ہمراہ اردن پہنچ چکے ہیں، اور پانچ سے چھ دن تک اسرائیلی قید میں رہنے کے دوران انہیں سخت سلوک اور نامناسب حالات کا سامنا کرنا پڑا، ان کے بقول قیدیوں پر ہتھکڑیاں، بیڑیاں اور بینائی پر پٹیاں باندھی گئیں اور متعدد مرتبہ جسمانی سختی کا بھی ذکر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ رہا ہونے کے دوران انہوں نے مطالبات کے لیے کچھ عرصہ بھوک ہڑتال بھی کی۔
مشتاق احمد خان صاحب اسرائیلی جیل سے رہا ہو کر اردن پہنچ گئے۔
ان کا پیغام ہے کہ اڈیالہ سے لے کر اسرائیلی جیل تک مزاحمت جاری رہے گی
(ایڈمن) pic.twitter.com/gJi6zXFUTZ
— Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان (@SenatorMushtaq) October 7, 2025
سابق سینیٹر نے اپنے بیانات میں کہا کہ وہ فلسطینی عوام کی مدد اور محاصرہ توڑنے کی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ واپس آئے ہیں اور مستقبل میں بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیتے رہیں گے۔ اُنہوں نے وزارتِ خارجہ اور متعلقہ سفارتی ذرائع کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی واپسی میں تعاون فراہم کیا۔مقامی ذرائع کے مطابق مشتاق احمد کے استقبال کی تصاویر اور ویڈیوز پر فلسطین نواز جذبات نمایاں رہے، اور اسلام آباد ایئرپورٹ پر ان کے حامیوں کی موجودگی دیکھی گئی۔







Discussion about this post