سندھ کی سرزمین پر ایک اور آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ گھوٹکی کی تحصیل میرپور ماتھیلو میں صحافی طفیل رند کو قاتلانہ حملے میں بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ جروار روڈ، مسو واہ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں میرپور ماتھیلو پریس کلب کے جنرل سیکریٹری طفیل رند اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے جا رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔گولیوں کی بوچھاڑ نے صحافی طفیل رند کو موقع پر ہی شہید کر دیا، جبکہ ان کے ساتھ موجود آٹھ سالہ بھتیجی خوف اور صدمے سے جاں بحق ہو گئی۔ لاش کو ڈی ایچ کیو اسپتال میرپور ماتھیلو منتقل کیا گیا، جہاں علاقے کے صحافیوں اور شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مختلف پہلوؤں سے معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔دوسری جانب، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔انہوں نے کہا:
"صحافیوں پر حملے دراصل آزادیِ صحافت پر حملے ہیں۔ اس ظلم میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔”
پولیس کے مطابق، فائرنگ کے وقت طفیل رند اپنے دو بچوں اور بھتیجی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار تھے۔ ایم ایس ڈاکٹر سرفراز شاہ کے مطابق، بچی ابتدائی طور پر معمولی زخمی تھی اور طبی امداد کے بعد گھر بھیج دی گئی تھی، تاہم واقعے کے خوف اور ذہنی صدمے نے کمسن بچی کی سانسیں چھین لیں۔ اس المناک واقعے نے گھوٹکی سمیت پورے صحافتی حلقے میں شدید غم و غصہ پھیلا دیا ہے۔پریس کلبوں میں سوگ کی فضا ہے، جبکہ ساتھی صحافیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ طفیل رند کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے مثال بنایا جائے۔ طفیل رند اُن درجنوں مقامی صحافیوں میں سے ایک تھے جو عوامی مسائل، بدعنوانی اور طاقتوروں کے دباؤ کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے تھے۔ 







Discussion about this post