آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ 2025 کے دوران پاکستان کی سابق کپتان اور مشہور کمنٹیٹر ثنا میر ایک تبصرے کے باعث بھارتی سوشل میڈیا صارفین کے شدید ردعمل کی زد میں آگئیں۔ بھارتی حلقوں نے اُنہیں کمنٹری پینل سے ہٹانے کا مطالبہ کیا، مگر تنقید کے باوجود وہ اب بھی آئی سی سی کے آفیشل کمنٹری پینل کا حصہ ہیں اور سابق بھارتی کپتان انجم چوپڑا کے ساتھ مشترکہ لائیو کمنٹری کرتی ہوئی دکھائی دیں۔یہ مناظر دیکھ کر شائقین نے سوشل میڈیا پر مختلف آراء کا اظہار کیا۔
کئی صارفین نے دونوں خواتین کمنٹیٹرز کی پیشہ ورانہ مہارت اور مثبت رویے کو سراہتے ہوئے کہا کہ "سیاست کو کھیل سے دور رکھنا ہی بہترین رویہ ہے۔"
Say No to Politics…
Sports and Peace Zindabad. pic.twitter.com/5aX0nFGA6l— Zeeshan Qayyum 🇵🇰 (@XeeshanQayyum) October 6, 2025
ذیشان قیوم نے تبصرہ کیا: “سیاست کو نا کہیں، کھیل اور امن زندہ باد۔”
فرید خان نے لکھا کہ “انجم چوپڑا اور ثنا میر کھیل کو سیاست کی آلودگی سے بچا رہی ہیں، یہ کھیل کی اصل روح ہے۔”
Anjum Chopra & Sana Mir keeping politics out of sports 🇵🇰🤝🇮🇳 #CWC25 pic.twitter.com/9LOj9ecwwu
— Farid Khan (@_FaridKhan) October 6, 2025
ایک صارف نے کہا کہ ثنا میر اور انجم چوپڑا کی کمنٹری میں خالص کرکٹ کی خوشبو تھی نہ کوئی منفی جملہ، نہ کسی قوم کے خلاف زہر آلود رویہ۔
انہوں نے مزید کہا کہ “ایسی غیرجانبدار اور معیاری گفتگو مردوں کے ایشیا کپ میں کم ہی دیکھنے کو ملی۔ آکاش چوپڑا اور اُن کے ساتھیوں کو ان دونوں سے سیکھنا چاہیے۔”
Loved the commentary between Sana Mir and Anjum Chopra from India. No negativity or toxicity , just pure cricketing talk, which was missing in the men’s Asia Cup. 👏👏
Akash Chopra and co should take some lessons from her pic.twitter.com/eq7iqB9DzD
— Hassan Abbasian (@HassanAbbasian) October 5, 2025
سید یحییٰ حسینی نے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا:
“کولمبو کے کمنٹری باکس میں سابق کپتان انجم چوپڑا اور ثنا میر کو مسکراتے اور صرف کرکٹ پر گفتگو کرتے دیکھا۔ یہ ان سب کے لیے سبق ہے جو کھیل میں نفرت گھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کھیل سے سیاست کو دور رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔”
In Colombo, inside the @ICC Women’s World Cup commentary box, former captains Anjum Chopra and Sana Mir were seen smiling and talking only about cricket.
This is a lesson for those who spread hatred in the game. Keep politics out of sports!#IndiaVsPakistan pic.twitter.com/vhy6Qm3g0c— Syed Yahya Hussaini (@SYahyaHussaini) October 5, 2025
واضح رہے کہ تنازعہ اُس وقت شروع ہوا جب ایک میچ کے دوران ثنا میر نے پاکستانی کھلاڑی نتالیہ پرویز کے آبائی علاقے کا ذکر “آزاد کشمیر” کے طور پر کیا۔ اس ایک جملے نے بھارتی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر ہلچل مچا دی۔بحث اُس وقت مزید بھڑک اٹھی جب کرک انفو (Cricinfo) نے نتالیہ پرویز کے پروفائل میں اُن کی جائے پیدائش کو “Pakistan Administered Kashmir” میں تبدیل کر دیا، حالانکہ ابتدائی طور پر وہاں “بندالہ، آزاد جموں و کشمیر” درج تھا۔

تاہم اس تمام تنازعے کے باوجود ثنا میر نے اپنے پروفیشنل انداز اور متوازن لہجے سے یہ ثابت کیا کہ کھیل سرحدوں سے نہیں، دلوں سے جڑتا ہے۔ انہوں نے اپنے عمل سے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ کرکٹ کو جوڑنے کا ذریعہ ہونا چاہیے، تقسیم کا نہیں







Discussion about this post