تیز رفتار واقعات کے ایک ہنگامہ خیز سلسلے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو چونکا دینے والا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق فلسطینی مزاحمتی گروہ حماس نے ان کے 20 نکاتی امن منصوبے پر “زیادہ تر مثبت” ردعمل دیا ہے اور امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے تیار ہے۔ صدر ٹرمپ نے اسی موقع پر تل ابیب سے مطالبہ کیا کہ وہ فی الفور غزہ پر بمباری روک دے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے حماس کو ایک واضح الٹی میٹم دیا تھا کہ اتوار تک اپنا جواب پیش کرے، ورنہ اس کے خلاف ایسا طوفان اٹھے گا جس کی مثال دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔ قطری ثالثوں کے ذریعے حماس نے اپنا جواب واشنگٹن تک پہنچایا، جسے صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر شیئر بھی کیا۔ جواب میں حماس نے کئی اہم نکات پر آمادگی ظاہر کی، جن میں غزہ میں موجود اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور علاقے کی انتظامیہ سے دستبرداری شامل ہیں۔ تاہم گروپ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ باقی نکات پر مزید بات چیت کے لیے تیار ہے۔ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ان باقی نکات میں سب سے نازک شرط گروپ کا غیر مسلح ہونا ہے۔

دوسری جانب، اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے بھی وائٹ ہاؤس کے امن منصوبے کی حمایت کی ہے۔ اس منصوبے میں جنگ بندی، 72 گھنٹوں میں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، حماس کا غیر مسلح ہونا اور اسرائیل کی بتدریج پسپائی جیسے نکات شامل ہیں۔ منصوبے کے مطابق بعد ازاں ایک عبوری انتظامیہ قائم ہوگی جس کی قیادت براہِ راست ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ حماس کے سیاسی بیورو کے رکن محمد نزال نے ابتدائی ردعمل میں کہا کہ منصوبے میں کچھ تشویش کے پہلو ضرور ہیں لیکن گروپ ایسا جواب دینا چاہتا ہے جو فلسطینی عوام کے وسیع تر مفاد میں ہو۔
حماس کا تازہ جواب
اپنے حالیہ بیان میں حماس نے کہا کہ وہ عرب، اسلامی اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی کوششوں کی بھی قدر کرتی ہے، جو غزہ کی جنگ کے خاتمے، قیدیوں کے تبادلے، فوری امداد اور فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کے خلاف ہیں۔ گروپ نے مزید کہا کہ وہ اسرائیلی قیدیوں (زندہ یا باقیات) کی رہائی کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے اور ثالثوں کے ذریعے فوری طور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔تاہم حماس کے سینئر رہنما موسیٰ ابو مرزوق نے واضح کیا کہ 72 گھنٹوں کے اندر قیدیوں اور لاشوں کی حوالگی صرف ایک نظریاتی بات ہے، عملی طور پر ممکن نہیں۔ ان کے مطابق غزہ کا انتظام غیر جانبدار فلسطینی اداروں کو منتقل ہونا چاہیے اور یہ ایک ایسا قومی فیصلہ ہے جو صرف حماس اکیلے نہیں کر سکتی۔ ابو مرزوق نے زور دیا کہ ترجیح سب سے پہلے جنگ اور خونریزی کو روکنا ہے۔ تاہم انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے سے پہلے حماس غیر مسلح نہیں ہوگی اور مستقبل سے متعلق کسی بھی بات چیت کو فلسطینی قومی فریم ورک کے اندر ہونا چاہیے۔
ٹرمپ کا ردعمل
حماس کا بیان دیکھنے کے بعد صدر ٹرمپ نے اسے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ پر شیئر کیا اور لکھا:
“اس بیان کی بنیاد پر میرا یقین ہے کہ حماس پائیدار امن کے لیے تیار ہے۔ اسرائیل کو چاہیے کہ فوری طور پر غزہ پر بمباری بند کرے تاکہ ہم یرغمالیوں کو محفوظ طریقے سے رہا کر سکیں۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ صرف غزہ کا معاملہ نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے دہائیوں سے درکار امن حاصل کرنے کا تاریخی موقع ہے۔
حماس کے اندرونی خدشات
دوسری جانب حماس کے رہنما محمود مرداوی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی تجویز مبہم ہے اور اس پر مزید وضاحت اور مذاکرات کی ضرورت ہے۔فی الحال یہ سوال باقی ہے کہ آیا امریکا اور اسرائیل مزید بات چیت کے لیے تیار ہوں گے یا نہیں۔ تاہم ایک بات طے ہے: مشرقِ وسطیٰ کے افق پر امن کی ایک نئی کرن ضرور ابھری ہے۔







Discussion about this post