وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید استحکام آیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے ساتھ روایتی جنگ پاکستان نے جیت لی، اور یہ کامیابی خدا کے فضل اور 24 کروڑ عوام کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے جرات اور پیشہ ورانہ مہارت سے دشمن کو تاریخی شکست دی۔ شہباز شریف نے بتایا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے کیونکہ انہوں نے بروقت مداخلت کرکے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ بڑے تصادم کو روکا اور دیگر عالمی تنازعات کے حل میں بھی کردار ادا کیا۔
نیویارک اور واشنگٹن کا دورہ بہت کامیاب رہا۔ یو این میں صدر ٹرمپ اور صدر اردوان کی زیرِ صدارت غزہ پر اہم میٹنگ ہوئی، امید ہےکہ جلد جنگ بندی ہوگی۔ پاکستان فلسطین اور کشمیر کے مظلوم عوام کے حق میں آواز بلند کی۔
~ وزیراعظم محمد شہبازشریف کی برطانیہ میں مقیم پاکستانی صحافیوں سے گفتگو pic.twitter.com/UKjztyzYQV
— Prime Minister Of Pakistan (@PMShehbazMedia) September 29, 2025
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ طے پا چکا ہے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہر مسلمان کی خواہش ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت کے لیے جان قربان کرے۔
فلسطین اور کشمیر کا مقدمہ
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں کشمیر اور فلسطین کے حق میں بھرپور آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں خواتین اور بچوں پر مظالم تاریخ کا سیاہ ترین باب ہیں، اور امید ہے کہ مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔
ماحولیاتی تبدیلی اور سیلاب
وزیراعظم نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان تباہ کن سیلابوں کا شکار ہو رہا ہے۔ 2022 میں سندھ اور حالیہ دنوں میں پنجاب کو شدید نقصان پہنچا، ایک ہزار سے زائد شہری جان بحق اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ تاہم قوم کے حوصلے بلند ہیں اور ہم اس چیلنج سے نکل آئیں گے۔
پاکستان کی ترجیحات
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان طاقت کی دوڑ کا حصہ نہیں ہے۔ ہماری اصل توجہ غربت اور بیروزگاری کے خاتمے، سرمایہ کاری بڑھانے، زراعت، مائنز اینڈ منرلز اور جدید ٹیکنالوجی خصوصاً اے آئی اور آئی ٹی کے ذریعے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے پر ہے۔







Discussion about this post