عالمی شہرت یافتہ پاپ اسٹار ٹیلر سوئفٹ نے اپنی جان کو لاحق حقیقی خطرات کے پیش نظر سیکیورٹی کے انتظامات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ کسی تشہیری حربے کا حصہ نہیں بلکہ ایک خطرناک اسٹاکر کے باعث لیا گیا سنگین قدم ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق سوئفٹ نے عدالت سے اپنے مبینہ اسٹاکر برائن جیسن ویگنر کے خلاف عارضی پابندی حاصل کر رکھی ہے، جو 2024 کے وسط سے ان کا پیچھا کر رہا ہے۔ حیران کن طور پر اس نے لاس اینجلس میں ان کے گھر میں گھسنے کی کوشش بھی کی۔ مداحوں کی دلچسپی اس وقت بڑھ گئی جب حالیہ دنوں میں ٹیلر سوئفٹ نے ایروہیڈ اسٹیڈیم میں بلٹ پروف اسکرین کے پیچھے سے داخلہ لیا۔ ابتدا میں سب نے اسے کسی نئے البم یا اعلان کی جھلک سمجھا، مگر قریبی ذرائع نے انکشاف کیا کہ یہ سب دراصل ممکنہ خطرے کے پیش نظر اٹھائے گئے حفاظتی اقدامات تھے۔ ذرائع کے مطابق سوئفٹ اپنے اسٹاکر کی حرکات سے سخت خوفزدہ ہیں اور ان کی سیکیورٹی ٹیم ہر لمحہ الرٹ رہتی ہے۔ اگر ذرا سا بھی خطرہ محسوس ہو تو پروموشنل سرگرمیوں اور عوامی ایونٹس میں فوری تبدیلی کر دی جاتی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب ٹیلر سوئفٹ کو اسٹاکرز کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ماضی میں بھی وہ متعدد بار ایسے افراد کی ہراسانی کا شکار ہو چکی ہیں۔ لیکن اس بار معاملہ اتنا سنگین ہے کہ اس نے ان کی نجی زندگی اور پیشہ ورانہ معمولات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر جب دنیا کی سب سے بڑی اسٹارز میں سے ایک کی زندگی داؤ پر لگی ہو۔ ٹیلر سوئفٹ کی ٹیم نے ان کی حفاظت کے لیے ہر ممکن حفاظتی قدم اٹھا رکھا ہے۔







Discussion about this post