پنجاب اسمبلی نے ایک اہم اور دور رس فیصلہ کرتے ہوئے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں طلبہ کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی کی قرارداد منظور کر لی ہے۔یہ قرارداد حکومتی رکن راحیلہ خادم حسین کی جانب سے پیش کی گئی، جس میں اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا کہ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور ان کی فکری و اخلاقی تربیت حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ موجودہ دور میں موبائل فون اور سوشل میڈیا کے بے جا استعمال نے طلبہ کے ذہنی ارتقاء اور اخلاقی اقدار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے لیے لازم ہے کہ اس بڑھتے ہوئے سماجی مسئلے سے نمٹنے کے لیے جامع اور مؤثر حکمت عملی ترتیب دے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ابتدائی اقدام کے طور پر تمام اسکولوں میں طلبہ کے موبائل فون لانے اور استعمال کرنے پر مکمل پابندی عائد کی جائے، جبکہ آئندہ مرحلے میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ان کے اثرات سے متعلق بھی واضح قانون سازی کی جائے۔ یہ فیصلہ اس حوالے سے سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے کہ تعلیم گاہیں محض نصابی تعلیم ہی نہیں بلکہ کردار سازی اور اخلاقی تربیت کے مراکز بھی ہوں۔







Discussion about this post