اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے واضح کیا ہے کہ سماجی کارکن اور وکیل ایمان زینب مزاری کے ساتھ ہونے والے مکالمے کے دوران ان کے ریمارکس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، جس کے نتیجے میں غیر ضروری تنازع کھڑا ہوا۔ یہ مکالمہ اس وقت سامنے آیا تھا جب عدالت میں سماجی کارکن ماہ رنگ بلوچ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی درخواست پر سماعت جاری تھی۔ سماعت کے دوران جسٹس ڈوگر نے ایمان مزاری کو مبینہ طور پر ’آمریت پسند‘ کہنے پر توہینِ عدالت کی کارروائی کی تنبیہ کی تھی۔ یہ معاملہ جمعہ کو ایک اور کیس کی سماعت کے دوران پھر زیرِ بحث آیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایمان مزاری ان کے لیے بیٹی کی مانند ہیں اور ان کا مقصد صرف انہیں سمجھانا تھا۔چیف جسٹس ڈوگر نے کہا:
"بطور چیف جسٹس اور بزرگ، میں محض انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ میرے ریمارکس کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور یوں ایک طوفان کھڑا کر دیا گیا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ایمان مزاری کو ان کے فیصلوں سے اختلاف کرنے کا حق ہے لیکن تنقید کو ذاتی رنگ دینے سے گریز کیا جانا چاہیے۔







Discussion about this post