متحدہ عرب امارات میں ایشیا کپ 2025 کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ ایونٹ کے افتتاحی میچ میں آج ہانگ کانگ اور افغانستان کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل کپتانوں نے دبئی میں مشترکہ پریس کانفرنس کی، جہاں سب نے اپنے عزم اور توقعات کا اظہار کیا۔ قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چار میں سے تین سیریز جیتی ہیں، ٹیم اچھی کارکردگی دکھا رہی ہے اور ایشیا کپ کے لیے مکمل تیار ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یو اے ای کی کنڈیشنز پاکستان کے لیے ایڈوانٹج نہیں، لیکن پی ایس ایل اور دیگر میچز کھیلنے کی وجہ سے کھلاڑی ان حالات سے واقف ہیں۔ ہانگ کانگ کے کپتان یاسم مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم سخت محنت کے بعد اس سطح پر پہنچی ہے اور شائقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔ عمان کے کپتان جتندر سنگھ نے کہا کہ عمان پہلی بار ایشیا کپ کھیل رہا ہے لیکن ٹیم ماضی میں تین ورلڈکپ کھیل چکی ہے، اسی تجربے کی بنیاد پر اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے پُرامید ہے۔

بنگلہ دیش کے کپتان لٹن داس کا کہنا تھا کہ ایشیا کپ میں سبھی ٹیمیں مضبوط ہیں، اس لیے ہر میچ کے لیے بھرپور محنت درکار ہوگی۔ افغان ٹیم کے کپتان راشد خان نے کہا کہ ایونٹ بڑا ہے لیکن کھلاڑیوں پر دباؤ نہیں ڈالیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی طرح آسان رویہ اپناتے ہوئے سو فیصد پرفارمنس دینے کی کوشش کریں گے۔ بھارت کے کپتان سوریا کمار یادو نے کہا کہ ایشیا کپ کا ہر میچ چیلنج ہوگا، کیونکہ ٹی20 فارمیٹ میں کوئی بھی ٹیم کمزور نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فارمیٹ میں چھوٹی ٹیمیں بھی بڑی ٹیموں کو اپ سیٹ کر سکتی ہیں۔ فیورٹ قرار دیے جانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ "آپ کو کس نے کہا کہ بھارت فیورٹ ہے؟” افتتاحی تقریب میں ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی نے ٹرافی کی رونمائی کی جس کے بعد پریس کانفرنس میں کپتانوں نے میڈیا کے سوالات کے جواب دیے۔ ایشیا کپ 2025 کا پہلا مقابلہ آج شام ہانگ کانگ اور افغانستان کے درمیان کھیلا جائے گ







Discussion about this post