ایک امریکی وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارورڈ یونیورسٹی کے لیے مختص فنڈز میں کی جانے والی سخت کٹوتیوں کو ختم کرے۔ انتظامیہ نے یہودی مخالف رویے اور جانبداری کے الزامات عائد کرتے ہوئے یونیورسٹی کے 2 ارب ڈالر سے زائد کے فنڈز منجمد کر دیے تھے۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے اور مؤقف اپنایا ہے کہ اس کا اقدام قانونی ہے کیونکہ ہارورڈ مبینہ طور پر غزہ جنگ کے خلاف کیمپس میں ہونے والے احتجاج کے دوران یہودی اور اسرائیلی طلبہ کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا۔تاہم ہارورڈ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل مقصد ٹرمپ انتظامیہ کا یونیورسٹی کی بھرتیوں، داخلوں اور نصاب پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

بوسٹن کی وفاقی جج ایلیسن بوروغز نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فنڈز منجمد کرنے کے احکامات اور ان کی منسوخی سے متعلق خطوط ’’امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی‘‘ ہیں، اس لیے انہیں کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ فیصلے کے مطابق، 14 اپریل 2025 یا اس کے بعد ہارورڈ کے فنڈز منجمد کرنے کے تمام حکومتی اقدامات غیر مؤثر ہوں گے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ مستقبل میں انتظامیہ اسی جواز کو استعمال کر کے فنڈنگ میں کٹوتی نہیں کر سکے گی۔







Discussion about this post