متحدہ عرب امارات کا دل کہلانے والا شہر دبئی آبادی کے اعتبار سے ایک نئے سنگ میل کو چھو گیا ہے۔ دبئی ڈیٹا اینڈ اسٹیٹسٹکس اسٹیبلشمنٹ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دبئی کی آبادی، جو 2011 میں 20 لاکھ تھی، 2025 میں دوگنی ہوکر 40 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1975 میں دبئی کی کل آبادی محض 1 لاکھ 87 ہزار تھی، لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں بے پناہ معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری کے مواقع اور عالمی شہرت نے شہر کو دنیا بھر کے سرمایہ کاروں، پروفیشنلز اور ملینرز کا مرکز بنا دیا ہے۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو دبئی کی آبادی 2032 تک 50 لاکھ اور 2039 تک 60 لاکھ کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی سے رہائش، تعلیم، صحت اور پبلک ٹرانسپورٹ کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ شہری منصوبہ سازوں کے مطابق دبئی کا بڑھتا ہوا دباؤ میٹرو بلیو لائن جیسے منصوبوں اور نئے ریٹیل پروجیکٹس کے ذریعے کسی حد تک کم کیا جاسکے گا، لیکن ٹریفک جام، مہنگائی اور نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے قیام جیسے چیلنجز سامنے آئیں گے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ دبئی نہ صرف دنیا بھر کے سرمایہ کاروں اور سیاحوں کے لیے کشش رکھتا ہے بلکہ اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ نئے امکانات اور مسائل دونوں کو جنم دے رہا ہے۔







Discussion about this post