بیجنگ کی فضا آج ایک نئے باب کی گواہ بنی، جب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور چین کے وزیراعظم لی چیانگ کی تاریخی ملاقات ہوئی۔ یہ محض ایک رسمی ملاقات نہ تھی، بلکہ پاک–چین تعلقات کے مستقبل کی نئی سمت متعین کرنے والا سنگ میل ثابت ہوئی۔گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ سی پیک فیز ٹو کا سفر تیز تر ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ پانچ نئے اقتصادی راہداریوں کا آغاز کیا جائے گا۔ گوادر بندرگاہ کو جلد از جلد فعال بنانا بھی اس عزم کا حصہ تھا، تاکہ پاکستان خطے میں ایک معاشی مرکز کے طور پر ابھر سکے۔ وفود کی سطح پر ہونے والی اس گفتگو کے بعد وزیراعظم لی چیانگ نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے اعزاز میں ایک شاندار ظہرانہ دیا، جو دونوں ممالک کی لازوال دوستی کا عملی مظہر تھا۔ شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی معاشی اصلاحات کے ثمرات چین کی غیر متزلزل حمایت کے بغیر ممکن نہ تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان جلد ہی چینی کیپٹل مارکیٹ میں پانڈا بانڈز متعارف کرانے جا رہا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان مالی تعلقات میں نئی جان ڈالے گا۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو میں سی پیک کی حیثیت ایک شاہکار منصوبے کی ہے، اور قراقرم ہائی وے و ایم ایل ون کی ازسرنو ترتیب اور گوادر پورٹ کی فوری آپریشنلائزیشن مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ گفتگو میں اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ بیجنگ میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس ایک تاریخی موقع ہوگا، جہاں 300 پاکستانی اور 500 چینی کمپنیاں آمنے سامنے ہوں گی اور زراعت، ٹیکسٹائل، معدنیات، صنعت اور آئی ٹی جیسے شعبے باہمی تعاون کا نیا نقشہ بنائیں گے۔ اس ملاقات کا سب سے حسین پہلو یہ تھا کہ دونوں رہنماؤں نے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والے حالیہ اتفاق رائے کو بنیاد بنا کر اس دوستی کو مزید وسعت دینے کا عزم دہرایا۔ پاکستان نے صدر شی جن پنگ کے عالمی وژن—گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو، گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشیٹو—کی کھل کر حمایت کی۔ تقریب کے دوران سائنس و ٹیکنالوجی، آئی ٹی، میڈیا اور زراعت سمیت کئی شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے۔ یوں یہ دن نہ صرف تعاون کا دن بنا بلکہ مستقبل کی کامیابیوں کا پیش خیمہ بھی۔ دونوں رہنماؤں نے یہ عزم بھی کیا کہ اگلے برس جب پاک–چین تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی جائے گی، تو اسے تاریخ کا سب سے یادگار جشن بنایا جائے گا۔ یہ ملاقات ایک پیغام تھی: پاک–چین دوستی نہ صرف پہاڑوں کی طرح بلند اور سمندر کی طرح گہری ہے بلکہ آنے والے وقت میں نئی بلندیوں کو چھونے کے لیے تیار ہے۔







Discussion about this post