وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی کوآرڈینیٹر برائے انسداد دہشت گردی گریگوری لوگرفو نے ملاقات کی، جس میں پاک–امریکا تعلقات، انسداد دہشت گردی، بارڈر سکیورٹی، انسداد منشیات اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر اور وفاقی سیکرٹری داخلہ بھی موجود تھے۔ گریگوری لوگرفو نے پاکستان کے 78ویں یومِ آزادی پر وزیر داخلہ اور پاکستانی قوم کو مبارکباد پیش کی۔ گفتگو کے دوران دونوں فریقین نے انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات کے شعبوں میں معلومات کے تبادلے کو مؤثر اور تیز تر بنانے پر زور دیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ:
"امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت آنے کے بعد پاک–امریکا تعلقات میں غیر معمولی بہتری آئی ہے۔ صدر کی عالمی امن کے لیے مخلصانہ کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں شفافیت، باہمی اعتماد اور عملی تعاون کا عنصر نمایاں ہے، اور یہی بہترین وقت ہے کہ ان تعلقات کو ہر شعبے میں فروغ دیا جائے۔ محسن نقوی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انسداد دہشت گردی ڈائیلاگ مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وفاقی وزیر نے امریکا کی جانب سے کالعدم بی ایل اے اور کالعدم مجید بریگیڈ کو عالمی دہشت گرد تنظیمیں قرار دینے کے فیصلے کو احسن اقدام قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاک–امریکا تعاون کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ امریکی کوآرڈینیٹر گریگوری لوگرفو نے پاکستان کو جیو اسٹریٹجک اعتبار سے انتہائی اہم ملک قرار دیتے ہوئے دہشت گرد حملوں میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔







Discussion about this post