خیبر پختونخوا کے پہاڑوں اور وادیوں میں آسمان نے ایک قیامت ڈھائی ، بٹگرام، باجوڑ اور مانسہرہ سمیت کئی اضلاع میں بادل پھٹنے، فلش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ نے زندگی کو ملبے، پانی اور چیخ و پکار میں دفن کر دیا۔ پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مختلف حادثات میں 43 قیمتی جانیں ابدی نیند سو گئیں اور درجنوں زخمی ہوئے، جب کہ کئی افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 33 مرد، 2 خواتین اور 8 معصوم بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔ قدرتی آفت نے 25 گھروں کو جزوی اور 5 کو مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔

بٹگرام ، نیل بند میں موت کا ریلا
جمعرات کی رات قریب 3 بجے، بٹگرام اور مانسہرہ کے سنگم پر واقع نیل بند کے گاؤں میں بادل پھٹنے کے بعد پانی کا ایک ہولناک ریلا آیا، جو 3 سے 4 گھروں کو بہا لے گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر محمد سلیم خان کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 15 تک پہنچ چکی ہے۔ مقامی افراد، ریسکیو اہلکار اور الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار مسلسل ملبے اور پانی کے شور میں زندگی کی تلاش میں مصروف ہیں۔ملکال گلی اور قرب و جوار کے دیہات میں سیلابی ریلوں نے لکڑی کے پل اکھاڑ دیے، مویشی بہا دیے اور رابطہ سڑکوں کو اجاڑ دیا۔ شملائی مندروالی کے مقام پر 10 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ 20 سے زائد افراد کا سراغ اب تک نہیں ملا۔ بارش اور موبائل نیٹ ورک کی بندش نے امدادی کارروائیوں کو مزید کٹھن بنا دیا ہے۔
باجوڑ ، پہاڑوں کا کٹاؤ اور زندگی کا زوال
تحصیل سلارزئی کے جبراڑئی گاؤں میں بادل پھٹنے کے بعد لینڈ سلائیڈنگ نے 7 مکانات کو ملبے میں بدل دیا۔ بھاری پتھروں کے نیچے دب کر 10 افراد جان سے گئے، جب کہ مزید کئی زندگیاں موت اور مٹی کے بیچ پھنسی ہوئی ہیں۔ پانی کی خطرناک حد تک بلند سطح نے ریسکیو ٹیموں کا راستہ مسدود کر دیا ہے، اور مقامی لوگ اپنے ہاتھوں سے پتھر ہٹا کر زندگی تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ہیلی کاپٹر اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت دی ہے، اور متاثرہ اضلاع میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔
مانسہرہ ، پانی کا قہر اور مٹی کی قبر
بسیاں کے مقام پر ایک گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی، جس میں موجود 6 میں سے 3 افراد کو زندہ نکال لیا گیا، جبکہ 2 نوجوان میر (30 سال) اور اسد (25 سال) جاں بحق ہوگئے۔گاؤں ڈھیری حلیم میں لینڈ سلائیڈنگ سے 15 مکانات زمیں بوس ہوگئے اور 35 افراد ملبے تلے دب گئے۔
لوئر دیر ، تین گھنٹے کا پیدل سفر، اور پھر ملبے میں امید کی تلاش
میدان سوری پاؤ میں مکان کی چھت گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت کئی لوگ دب گئے۔ دشوار گزار پہاڑی راستے، موسلادھار بارش اور سیلابی ریلوں کے باوجود ریسکیو 1122 کی ٹیم نے 3 گھنٹے کا پیدل سفر طے کر کے جائے حادثہ پہنچ کر 7 افراد کو نکالا، لیکن ان میں سے 5 کی سانسیں خاموش ہو چکی تھیں۔







Discussion about this post