پاکستان اور امریکہ نے انسدادِ دہشت گردی ڈائیلاگ کے اختتام پر ایک اہم اور جامع مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جو دونوں ممالک کے باہمی عزم اور قریبی شراکت داری کا مظہر ہے۔ اعلامیے کے مطابق ڈائیلاگ کی صدارت پاکستان کے نبیل منیر اور امریکہ کے گریگری ڈی لوجرفو نے مشترکہ طور پر کی، جہاں ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا گیا۔ فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ بی ایل اے، داعش خراسان اور ٹی ٹی پی جیسے خطرناک گروہوں کا قلع قمع عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ امریکہ نے دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیوں کو سراہتے ہوئے انہیں قابلِ تقلید قرار دیا۔ مشترکہ اعلامیے میں جعفر ایکسپریس اور خضدار اسکول بس حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا، اور اس عزم کا اظہار ہوا کہ معصوم شہریوں کے خون کا حساب ضرور لیا جائے گا۔ فریقین نے بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردوں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے مقابلے کے لیے عملی حکمت عملی پر اتفاق کیا، تاکہ دہشت گردی کی ہر نئی شکل کا بروقت اور مؤثر سدباب کیا جا سکے۔ اعلامیے میں ادارہ جاتی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے، صلاحیتوں میں اضافے، اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے مسلسل و منظم روابط کو خطے میں امن و استحکام کی بنیادی شرط قرار دیا گیا۔ آخر میں، دونوں ممالک نے اس بات کا عہد کیا کہ اقوام متحدہ سمیت تمام کثیر الجہتی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا، تاکہ دنیا بھر میں امن کا پرچم سربلند رہے۔







Discussion about this post